پاکستان اور چین معاہدوں پر اٹھتے سوالات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینی صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران دونوں حکومتوں کے مختلف محکموں اور بعض نجی کاروباری اداروں کے درمیان سرمایہ کاری کے 51 معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں

چین کی جانب سے پاکستان میں اقتصادی راہداری سمیت بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو ملکی ترقی کے لیے اہم اور تاریخی قرار تو دیا جا رہا ہے لیکن ماہرین اور میڈیا کے ارکان ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہونے والے معاہدوں کی بیشتر تفصیلات سے تاحال لاعلم ہیں۔

45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ان منصوبوں کے بارے میں تفصیلات سے یہی لا علمی بعض ماہرین کی نظر میں چین کے ساتھ ہونے والے ان ’تاریخی معاہدوں‘ کی شفافیت پر سوالیہ نشان کا باعث بن رہی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران دونوں حکومتوں کے مختلف محکموں اور بعض نجی کاروباری اداروں کے درمیان سرمایہ کاری کے 51 معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

ان معاہدوں کے عنوان تو عوام کو بتا دیے گئے لیکن دیگر تفصیل کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے نہ تو میڈیا کو جاری کی گئیں اور نہ ہی ان کی تفصیلات کسی سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

موجودہ حکومت کے سابق اعلیٰ اقتصادی مشیر ثاقب شیرانی کہتے ہیں کہ بہت کوشش کے باوجود وہ بیشتر معاہدوں کی تفصیل حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

’چین کے ساتھ یہ معاہدے ایک دو دن میں تیار نہیں کیے گئے بلکہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے ہم ان کے بارے میں سن رہے تھے لیکن کوشش کے باوجود ہم ان معاہدوں کی تفصیل معلوم نہیں کر پائے۔ ان اہم اور حساس معاہدوں تک عدم رسائی ان کے بارے میں شکوک کو جنم دے رہی ہے۔‘

صرف ایسا نہیں ہے کہ ماہرین اقتصادیات ہی ان معاہدوں کی تفصیل سے لا علم ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان معاہدوں کی تفصیل عوام کے منتخب نمائندوں اور پارلیمان سے بھی خفیہ رکھنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

’حکومت نے پارلیمان کو ایک بار پھر بائی پاس کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت ہے ہی نہیں۔ صرف یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ حکومت نے چین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے بارے میں کوئی بھی تفصیل پارلیمان کے سامنے نہیں رکھی۔‘

اسد عمر نے کہا کہ پارلیمان تو ایک طرف، کسی کو بھی ان معاہدوں کی تفصیل کا ذرہ برابر بھی عمل نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ روز وہ ایک ٹی وی پروگرام میں اقتصادی راہداری منصوبے پر بات کے لیے سٹوڈیوز پہنچے تو انھیں بتایا گیا کہ پروگرام کا موضوع بدل دیا گیا ہے اور اب کراچی کے انتخابات پر بات ہو گی۔

اسد عمر کے مطابق انھوں نے جب میزبان سے وجہ پوچھی تو انھیں بتایا گیا کہ اقتصادی راہداری پر بات کرنے کے لیے کوئی بنیادی اطلاعات ہی دستیاب نہیں ہیں تو وہ بحث کس موضوع پر کریں؟

سیاستدان اور میڈیا تو چین کے ساتھ معاہدوں کی تفصیل نہ ملنے پر پریشان ہیں لیکن ان معاہدوں کے عملی اثرات کا سامنا کرنے والے تو ان معاہدوں کے نتیجے میں زمین پر ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں سے نہ واقف ہیں۔

اس بڑے منصوبوں کا مرکز بننے والے صوبے بلوچستان کی حکومت کے اقتصادی مشیر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ان کے صوبے کے عوام اور کسی حد تک حکمران طبقہ بھی اقتصادی راہداری منصوبے کی تفصیلات یا فوائد سے واقف نہیں ہے۔

’بلوچستان کے لوگوں کو تو یہ بھی اندازہ نہیں ہے کہ گوادر کی بندرگاہ پر کس قسم کے ترقیاتی کام ہوں گے اور کیا یہ علاقہ ان کی ملکیت بھی رہے گا یا نہیں؟ اگر ان لوگوں کے اس طرح کے تحفظات دور کر دیے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان ترقیاتی کاموں کے لیے بلوچوں کی حمایت حاصل نہ کی جا سکے۔‘

چین کے ساتھ طے پانے والے ان منصوبوں کی تفصیلات طے کرنے میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ حکومت نے ان تمام منصوبوں کی تفصیل طے کرتے ہوئے پسماندہ علاقوں کو ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔

’وزیراعظم کی ہدایت پر اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ مقامی آبادی کو ان منصوبوں کے براہ راست فوائد حاصل ہونے چاہییں اور جب یہ منصوبے مکمل ہوں گے تو سب سے زیادہ خوش مقامی افراد ہی ہو ں گے۔‘

طویل عرصے تک ریاستی سطح پر اس طرح کے معاہدوں کی تیاری میں شامل رہنے والے سابق اقتصادی مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کہتے ہیں کہ حکومت جلدی میں کام خراب کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں ایسا محسوس ہے کہ حکومت بہت جلدی میں ہے اور اسی جلد بازی میں وہ اپنا ہوم ورک مکمل نہیں کر رہی اور اس کوتاہی کو چھپانے کے لیے عوام کو بنیادی معلومات سے دور رکھ رہی ہے۔

اسی بارے میں