صحرائی ساز پر ’ناچتی پریاں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

’آج سے دو ہزار سال پہلے جس نے رانتی بنائی تھی، رونق کے لیے بنائی تھی۔ رات کاٹنے کے لیے۔‘

راجو لال بھیل ’رانتی‘ کی تاریخ بتاتے ہیں: ’جیسے چار آدمی اکٹھے ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔ اُن کی رات نہیں کٹتی تھی۔ ناچ اور گانے سے رات کٹ جاتی تھی۔‘

اِس آلۂ موسیقی نے صحرائی شاموں کو صدیوں سے جواں رکھا ہوا ہے۔ یہ بھارتی ریاست راجھستان کے علاقے مارواڑ میں وجود میں آئی اور مارواڑی رقص و موسیقی کو ساز دیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان میں چولستان کے اِس ساز اور صحرائی شاموں کو جواں رکھنے والے فنون کو راجو لال بھیل کے خاندان نے پھیلایا۔

اُن کے بقول رانتی کی منفرد شناخت اِسے بنانے میں ہے، گھوڑے کی دم کے بالوں، بکری کی کھال اور ناریل کے خول کا استعمال ہے۔ اِسے صرف چولستان کے ہندو فنکار ہاتھوں سے بناتے ہیں۔

رانتی کے ساز پر صحرائی محفلیں سجانے والے فنکاروں کا گروہ پانچ افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اُستاد، جو رانتی بنانا، بجانا اور اِس پر مارواڑی زبان میں گانا جانتا ہے۔ دوسرا خاموشی سے ڈھولکی سنبھالتا ہے جبکہ باقی تین اپنے جُھومر سے شائقین کو محضوظ کرتے ہیں۔

یہ جُھومر حسن و جوانی کی رنگین نمائش ہوتا ہے۔ سٹیج پر آنے سے پہلے تینوں جُھومری راجھساتی خواتین کا لباس پہن کر باریک بینی سے میک اپ کر کے عورت کا روپ دھارتے ہیں۔

Image caption رانتی کے ساز پر صحرائی محفلیں سجانے والے فنکاروں کا گروہ پانچ افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک اُستاد، جو رانتی بنانا، بجانا اور اِس پر مارواڑی زبان میں گانا جانتا ہے۔ دوسرا خاموشی سے ڈھولکی سنبھالتا ہے جبکہ باقی تین اپنے جُھومر سے شائقین کو محظوظ کرتے ہیں

سٹیج پر بھڑکیلے انداز میں مارواڑی رقص کرتے ہوئے آگ سے کھیلتے ہیں اور گڑوی سر پر رکھ کر توازن برقرار رکھنے کے کرتب دکھاتے ہیں۔ شائقین کی اکثریت اِنھیں خواتین ہی سمجھ کر محظوظ ہوتی ہے۔ یہی اِس صحرائی فن کا راز ہے کہ عورت کے حسن و جوانی کے خیالات میں رات کٹ جائے اور اصل عورت اپنی چادر اور چار دیواری میں رہنے کا روایتی وقار برقرار رکھے۔

پاکستان میں رانتی کی دُھنوں پر منفرد مارواڑی فن کی مہارت چولستان کے گنتی کے فنکاروں کے پاس ہے۔ زنانہ حسن و جوانی کے بھڑکیلے روپ کی نمائش کرنے والے اِن فنکاروں کی اپنی زندگیوں میں اُتنی رنگینی دیکھنے میں نہیں آتی، جتنی یہ دوسروں کی شاموں میں بکھیرتے ہیں۔

جُھومری ازاری لال بتاتے ہیں کہ اُنھیں ’لیڈیز‘ بننے کا بہت شوق ہے۔ ’ہمارے بہن بھائی ماں باپ بچے، سب ہمارے عورت کا رُوپ دھارنے پر خوش ہوتے ہیں کہ یہ تو گلاب کے پھول ہیں۔ یہ تو پریاں بن کر ناچتی ہیں۔‘

Image caption جُھومری ازاری لال بتاتے ہیں کہ اُنھیں ’لیڈیز‘ بننے کا بہت شوق ہے

وسط اپریل میں جن دنوں جُھومری ازاری لال اپنے استاد لالو لال بھیل کی رانتی پر چولستان کے قلعہ دراوڑ کی بغل میں پاکستان بھر سے آئے ہوئے شائقین کے سامنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے، اُنہی کے ایک اور ساتھی کرشن لال بھیل اپنے گروہ کے ہمراہ اسلام آباد کی میوزک میلہ کانفرنس میں دنیا بھر کے شائقین کو محظوظ کر رہے تھے۔

وہی میلہ جس میں پاکستان کے نامور پاپ اور لوک گلوکاروں سمیت بین الاقوامی موسیقاروں نے بھی فن کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان میں رانتی کے گنے چُنے فنکار چولستانی بھیل ہیں جن کے اُستادوں کے اُستاد راجو لال بھیل کے والد لکھا جی بھیل تھے۔

ازاری لال کے پانچ بچے ہیں۔ زیادہ تر ایّامِ زندگی لوگوں کی فصلیں کاٹ کر یا مزدوری کرکے کٹتے ہیں۔ اُن کے اصل چہرے اور چال ڈھال میں مشقت اور معاشی تنگدستی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ البتہ عورت کا رُوپ دھارنے کے بعد اپنی چال ڈھال اور ادا کو اِس قدر مہارت سے بدلتے ہیں کہ دیکھنے والے کو احساس تک نہیں ہوتا کہ حُسن کے نقاب اوڑھنے والی کی حقیقی زندگی تلخیوں سے بھری ہے۔

رانتی اور مارواڑی رقص کے فنکار ضلع رحیم یار خان کے دیہات میں گمنامی کی زندگی گزارتے ہیں۔ یوں تو پاکستان بھر میں لوک فنکاروں کے معاشی حالات قابلِ ذکر نہیں لیکن ہندو لوک فنکاروں کو سماجی تنگ نظری کا اضافی بوجھ اُٹھانا پڑتا ہے۔ اُن کی موسیقی اور گیت ہندو ثقافت اور داستانوں پر مبنی ہیں۔

راجو لال بھیل بتاتے ہیں کہ رانتی کی دُھن پر ’کرشن کنیا، رام لکشمن کی کہانیاں گاتے ہیں۔ شادی اور مرگ کے گیت ہوتے ہیں اور اگر کسی کو جن بُھوت ہو جائیں تو بھی یہ کام دیتی ہے۔ ہمارا مذہب ہے یہ۔‘

گیتوں کی اِنہی حدود کے باعث مسلم اکثریتی پاکستان میں رانتی کو بنانے، اِسے بجانے، اِس پر ناچنے گانے اور کرتب دکھانے کے فنون ہندو اقلیت تک محدود ہے۔ فنِ موسیقی کی دنیا میں بھی مذاہب کی لکیریں کھنچی ہیں۔

Image caption راجو لال بھیل جہاں رہتے ہیں وہاں اُن کے نام سے کوئی شناسا نہیں اور بیماری کےباعث اب فن کا مظاہرہ نہیں کرتے

عموماً جب ہندو مسلم گھر میں جائے تو وہ برتن تھمایا جاتا ہے جو مسلم گھرانے کو دوبارہ کبھی استعمال نہیں کرنا ہوتا۔ لیکن ’پاک مہمان نوازی‘ ہندو گھر میں جانے والے مسلمان کا حق ٹھہرایا جاتا ہے۔

ماضی میں پٹھانے خان سمیت چند ایک لوک فنکاروں کے وارثوں کے ہاں جانے کا موقع ملا۔ ہر مسلم فنکار کے شہریوں نے فخریہ لہجے میں احترام سے نام لے کر گھر کا پتہ بتایا۔

رحیم یار خان کے نواحی گاؤں میں راجُو لال بھیل کے نام سے کوئی شناسا نہیں۔ کئی لوگوں سے پوچھنے کے بعد ’ناچنے گانے والوں کا گھر‘ دریافت کرنے پر ایک صاحب گائیڈ بن گئے لیکن راستے میں ایک شخص کو درخت کے سائے تلے بیٹھا دیکھ کر رُک گئے اور اشارہ کیا کہ ’وہ ہے۔‘

گائیڈ نے اُس شخص کو تحمکانہ لہجے میں بلایا۔ بائیں بازو اور بائیں ٹانگ کی معذوری کے باعث لہراتے ہوئے لاٹھی کے سہارے گاڑی کے قریب پہنچ کر انھوں نے سہمے ہوئے لہجے میں ’جی سائیں‘ کہا۔

Image caption راجو لال کے بیٹوں نے تو اس فن کو آگے نہیں بڑھایا اب وہ اپنے پوتوں کو سکھا رہے ہیں

جواب دیا: ’بی بی سی سے آئے ہیں اور راجو لال بھیل کو ڈھونڈ رہے ہیں۔‘ معذور بزرگ کی طرف سے ’میں ہوں راجو لال بھیل‘ کا جواب سنتے ہی گائیڈ نے قہقہہ لگا کر کہا: ’اِس کا نام تو بھنگی ہے، آپ پتہ نہیں کیا نام لے رہے تھے۔‘

راجو لال بھیل کے کچے مکان میں موجودگی کے دوران ہمسایوں کا آنا جانا لگا رہا۔ اپنے ہاں سے ٹھنڈا پانی اور گلاس لائے۔ ایک نے دھمکی دی کہ ’چائے میری طرف نہ پی تو گاڑی کے ٹائروں کی ہوا نکال دیں گے۔‘ ناں ناں ہاں ہاں کی بحث میں یوں لگا کہ ہندو میزبان کو مسلمانوں کی مہمان نوازی کا کوئی اختیار نہیں۔ البتہ ایک ہمسایہ خاندان پاکستان میں ایک قدیم فن کا اکلوتا وارث ہے، اِس پر فخر تو کیا، ہمسائے تک کو خبر تک نہیں۔

فالج کے باعث راجو لال بھیل رانتی نہیں بجا سکتے۔ اُن کا مارواڑی گروہ بھی بِکھر گیا۔ اُن کے بیٹوں نے اِس لیے نہیں سیکھی کہ رانتی کی مارواڑی دُھنوں پر عورت کے روپ میں رقص و موسیقی دورِ حاضر کے معاشی تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔

آج کل راجو لال اپنے پوتوں کو سِکھانے کی کوششوں میں ہیں اور فکرمند ہیں کہ اُن کے منفرد مارواڑی فن کی وراثت خطرے میں ہیں۔

’اِس کا شوق چند لوگوں کو ہے۔ عام نہیں ہے۔ پوتے کو کہتا ہوں کہ شاگرد بن جاؤ تاکہ ہم مر جائیں تو اُس کا تو نام رہے ناں۔‘

Image caption رانتی کی منفرد شناخت اِسے بنانے میں ہے، گھوڑے کی دم کے بالوں، بکری کی کھال اور ناریل کے خول کا استعمال ہے

راجو لال ارمان بھرے لہجے میں اُن وقتوں کو یاد کرتے ہیں جب اُنھیں چولستان سے لے کر اسلام آباد تک کی ثقافتی محفلوں میں بُلایا جاتا تھا۔ اُنھوں نے پلاسٹک کے میلے سے لفافے میں اُن محفلوں کی اسناد اور تصاویر سنبھال رکھی ہیں۔ محفلوں میں ملنے والی بیلوں کی آمدن سے بچوں کا سر چُھپانے کے لیے کچے مکان بنا لیے۔

’ہم جو گم ہو گئے ہیں، نام تو گُم ہو گا ہی۔ یہی سوچتا رہتا ہوں کہ کیا تھے اور کیا ہو گئے ہیں۔ گاڑی جب لائن سے اُتر جائے تو لائن پر چڑھانا مشکل ہوتا ہے۔ کام ہو گئے ہیں وہ۔‘

اسی بارے میں