پاکستانی سکولوں میں ریڈیو کے ذریعے تعلیم

Image caption سکولوں میں اسلام آباد سے ریڈیو پر براڈ کلاس نامی خصوصی پروگرام نشر کیا جاتا ہے

اس ہفتے پاکستان میں تعلیم سے متعلق دو اہم رپورٹیں منظرِ عام پر آئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں پاکستان کتنا پیچھے ہے۔

ان میں سے ایک رپورٹ حکومتِ پاکستان کی اپنی اور دوسری یونیسکو کی ہے۔

پاکستانی حکومت کی ’پاکستان ایجوکیشن سٹیٹسٹکس رپورٹ‘ کے مطابق 62 لاکھ پاکستانی بچے سکول نہیں جاتے جبکہ یونیسکو کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ پاکستانی بچے پہلی جماعت کے بعد سکول چھوڑ دیتے ہیں۔

گورنمنٹ سکول نمبر ایک ہری پور میں صبح نو بجے سے پہلی اور دوسری جماعتوں میں گانوں اور بچوں کے ہنسنے کی آوازیں گونجتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب اسلام آباد سے ریڈیو پر براڈ کلاس نامی خصوصی پروگرام نشر کیا جاتا ہے۔

یہاں پہلی جماعت کی 20 بچیوں کو انگریزی میں ’گُڈ مارننگ‘ اور ’گُڈ بائے‘ سکھائے جا رہے ہیں۔ ان بچیوں کے استاد جنید ساتھ ساتھ بچیوں کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔ جب میں نے چھ سالہ امینہ اور حفظہ سے پوچھا کہ انھوں نے اس کلاس میں کیا سیکھا تو انھوں نے بڑے اعتماد سے مجھے ’گُڈ مارننگ‘ اور ’ِسٹ سٹینڈ‘ سنایا۔

ریڈیو سبق کا یہ سلسلہ اسلام آباد کی ایک غیر سرکاری تنظیم ’دی کمیونکیٹرز‘ کی پاکستان میں سرکاری سکولوں میں معیارِ تعلیم کے مسئلے سے نمٹنے کی ایک کوشش ہے۔ تمام اسباق سرکاری نصاب پر مبنی ہوتے ہیں اور اس کے لیے خصوصی گانے بنائے جاتے ہیں، اور پانچ مختلف کرداروں کے ذریعے بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی بڑھائی جاتی ہے۔ ان کرداروں میں ایک طوطا، ایک لڑکا اور لڑکی اور ایک استاد شامل ہیں۔

سکول کے پرنسپل میر احمد خان نے بتایا کہ جب یہ پروگرام شروع ہوا تھا تو انھیں یقین نہیں تھا کہ اس کا بچوں پر کیا اثر ہو گا، لیکن شروع کے ایک سال بعد انھیں نتائج مثبت لگے۔

وہ کہتے ہیں: ’ساتھ گورنمنٹ سکول نمبر دو ہے اور جب یہ نشریات شروع ہوتی ہے تو اس سکول کے بچے بھی سنتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہمارے سکول کے داخلے بڑھے ہیں اور اساتذہ بھی کلاس میں آنے سے پہلے پوری تیاری کرتے ہیں۔‘

چھ سالہ محمد داماد بھی براڈ کلاس کا گانا گُڈ مارننگ شوق سے سناتے ہیں۔ وہ دوسری جماعت میں پڑھتے ہیں اور نابینا ہیں۔ محمد داماد کے دادا نے بتایا کہ وہ اپنے پرائیویٹ سکول جانے والے جڑواں بھائی کو بھی تربیت دیتے ہیں۔ ’اس کا جڑواں بھائی دیکھ سکتا ہے اور اسے پرائیویٹ انگریزی میڈیم سکول میں پڑھ رہا ہے۔ لیکن محمد داماد اسے اپنے سکول سے سیکھے ہوئے سبق پڑھاتا ہے۔‘

سرکاری سکولوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہاں پڑھائی کے روایتی طریقۂ کار کے باعث بچے تعلیم میں دلچسپی نہیں لیتے۔

ماہرِ تعلیم مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ معیارِ تعلیم میں کمی کی بڑی وجہ ہے کہ بچے سکول جانا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اگر 100 بچے پہلی جماعت میں داخل ہوتے ہیں تو ان میں سے صرف 25 دسویں جماعت تک پہنچتے ہیں۔

’سرکاری جائزے کہتے ہیں کہ زیادہ تر بچے خود سکول چھوڑ دیتے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ بچوں کو سرکاری سکولوں میں مارا جاتا ہے، توجہ نہیں دی جاتی یا معیارِ تعلیم بہت خراب ہے۔‘

Image caption دی کمیونکیٹرز کی مینیجنگ ڈائریکٹر کے مطابق 80 ہزار بچے براڈ کلاس کو براہِ راست سن رہے ہیں

دی کمیونکیٹرز کے علاوہ اس پروگرام کے عمل میں برطانوی تنظیم آکسفرڈ پالیسی مینیجمنٹ، دارالحکومت اور صوبہ خیبر پختونخو کے تعلیم کے محکمے شریک ہیں۔ لیکن یہ پروگرام فی الحال صرف اسلام آباد اور ہری پور کے پانچ سو سرکاری سکولوں میں نشر کیا جا رہا ہے۔

دی کمیونکیٹرز کی مینیجنگ ڈائریکٹر فاخرہ نجیب نے بتایا کہ 80 ہزار بچے براڈ کلاس کو براہِ راست سن رہے ہیں۔ لیکن اس کے لیے انھوں نے خاص ریڈیو سیٹ خود بنائے تھے۔

’ہمیں مسئلہ تھا کہ موبائل اور بازار میں دستیاب سیٹ ہماری ضروریات کو پورا نہیں کر رہے تھے۔ ہماری اپنی ٹیم کے انجینئروں نے ایسا سیٹ بنایا جس کی آواز صاف ہو تاکہ اس پروگرام کو بڑی کلاسوں میں آسانی سے سنا جائے اور اس میں بیٹری بھی ہے تاکہ یہ بجلی کے بغیر چل سکے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ بچوں کے انگریزی تلفظ کے علاوہ اساتذہ کو بھی ساتھ ساتھ تربیت حاصل ہوتی ہے: ’نشریات سے قبل ہم اساتذہ کو دو بار تربیت دیتے ہیں۔ اور پھر ہر روز نشریات کے دوران بھی یہ پڑھائی کے جدید طریقہ کار سیکھتے ہیں۔ کئی اساتذہ نے ہمیں بتایا کہ ان کی اپنی انگریزی بہتر ہوئی ہے۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیسکو کی حالیہ رپورٹ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہونی چاہیے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 15 برسوں میں پاکستان اپنے تعلیمی اہداف تک نہیں پہنچا اور یہ کہ براڈ کلاس جیسے پروگرام سکول میں سبق اور کھیل ملا کر ان اہداف کی جانب ایک چھوٹا سا قدم ہے۔

اسی بارے میں