کوئٹہ میں فائرنگ سے ہزارہ فبیلے کے دو افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے: پولیس اہل کار

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ایک واقعے دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق ہزارہ برادری ہے۔

فائرنگ کا واقعہ پیر کو سیٹلائیٹ ٹاؤن کے علاقے میں پیش آیا۔

سیٹلائیٹ ٹاؤن پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے تین افراد بس کے ذریعے ایران سے متصل سرحدی شہر تفتان جانا چاہتے تھے اور وہ سیٹلائیٹ ٹاؤن میں واقع ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے دفتر پر بیٹھے تھے۔

روشن پاکستان کے لیے ہزارہ بچوں کے خواب

پولیس اہلکار کے مطابق کمپنی کے دفتر میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان افراد پر فائرنگ کر دی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں دف افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گیا جبکہ تیسرا شدید زخمی ہوا۔ زخمی شخص کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق تینوں افراد کو سر میں گولیاں ماری گئیں۔

پاکستان میں حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم ادارے ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے مطابق سنہ 1999 سے 2012 تک 13 برس کے عرصے میں 800 شیعہ ہزارہ ہلاک کیے گئے جبکہ سنہ 2013 کے ابتدائی چند ہفتوں میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں 200 سے زائد افراد کی جان گئی۔

سنہ 2013 میں ہزارہ برادری کی تنظیم ہزارہ قومی جرگہ اور شیعہ تنظیم قومی یکجہتی کونسل کے اعداد وشمار کے مطابق جان و مال کو درپیش خطرات کی وجہ سے سنہ 1999 سے لے کرفروری سنہ 2013 تک تقریباً دو لاکھ ہزارہ بلوچستان چھوڑ کر پاکستان کے دیگر شہروں میں منتقل ہوئے یا پھر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں