موبائل فون سموں کی تصدیق میں 17 دن کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس سے پہلے پی ٹی اے نے موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین کو سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کے لیے 12 اپریل تک کی مہلت دی تھی

پاکستان کی وفاقی حکومت نے موبائل سموں کی تصدیق میں 17 روز کی توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 مئی کے بعد اس میں مّّزید توسیع نہیں کی جائے گی۔

اس بات کا فیصلہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی سربراہی میں منگل کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیاگیا کہ 15 مئی گزرنے کے بعد اگر غیر تصدیق شدہ سم شدت پسندی کے کسی بھی واقعہ میں استعمال ہوئی تو اس کمپنی کے خلاف ضابطہ فوجداری قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ موبائل سموں کی مانیٹرنگ کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اب تک دو کروڑ کے قریب موبائل سمیں بند کی جا چکی ہیں جبکہ سات کروڑ سے زائد سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کی جا چکی ہے۔

اس سے پہلے پی ٹی اے نے موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین کو سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کے لیے 12 اپریل تک کی مہلت دی تھی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے تحت سموں کی تصدیق کا عمل مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ملکی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہوگا اور حکومت ہر وہ اقدام اٹھائے گی جو ملکی مفاد میں ہو۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق ماضی میں ملک میں شدت پسندی کی زیادہ تر وارداتوں میں موبائل فون استعمال کیے گئے اور ان مقدمات کی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ان وارداتوں میں استعمال ہونے والی موبائل سم کسی ایسے شخص کے نام پر تھی جو یا تو مر چکا ہے یا پھر وہ ملک چھوڑ کر جا چکا ہے۔

اسی بارے میں