جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر قاتلانہ حملے میں ہلاک

Image caption ڈاکٹر وحید الرحمان کراچی پریس کلب کے رکن اور الیکشن کمیٹی میں بھی شامل تھے

پاکستان میں جامعہ کراچی کے شعبۂ ابلاغ عامہ میں اسسٹنٹ پروفیسر وحید الرحمان کو ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ بدھ کی صبح فیڈرل بی ایریا بلاک 16 میں پیش آیا۔

ایس ایس پی نعمان صدیقی نے بتایا کہ پروفیسر وحید الرحمان فیڈرل بی ایریا ایریا میں اپنے گھر سے یونیورسٹی جانے کے لیے نکلے تھے کہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار تقریبا چار افراد نے ان کا پیچھا کیا اور گولیاں مارکر فرار ہوگئے۔

وحید الرحمان کی لاش عباسی شہید ہسپتال پہنچائی گئی جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انھیں چار گولیاں لگیں اور انہیں مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔

ایس ایس پی نعمان صدیقی کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر فرقہ وارانہ تشدد کا سلسلہ نہیں لگتا، وحید الرحمان کا تعلق اہل سنت مسلک سے تھا۔

ڈاکٹر وحید الرحمان کراچی پریس کلب کے رکن اور الیکشن کمیٹی میں بھی شامل تھے، انھوں نے روزنامہ ’امت‘ کے ساتھ بھی کام کیا، کراچی یونیورسٹی سے قبل وہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں بھی شعبۂ ابلاغ عامہ سے منسلک رہے۔

ڈاکٹر وحید الرحمان کے استاد ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا تھا کہ وحید الرحمان انتہائی نفیس اور شریف انسان تھے، ان کا قتل کیوں کیا گیا ان کا ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہے۔

ڈاکٹر توصیف نے بتایا کہ پروفیسر وحید الرحمان نے ڈاکٹر شکیل اوج کی زیر نگرانی ڈاکٹریٹ کی تھی۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر شکیل اوج کو بھی گذشتہ سال ستمبر میں اسی طرح حملہ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں