’سبین کے قتل میں شدت پسند گروہ یا کالعدم تنظیم ملوث ہوسکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سبین محمود کے قتل کے واقعے کو پانچ روز گذر چکے ہیں

کراچی پولیس کو شبہ ہے کہ سماجی ورکر سبین محمود کے قتل میں کوئی شدت پسند مذہبی گروہ یا کالعدم جماعت ملوث ہوسکتی ہے جن سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق تھا۔

ڈی آئی جی جنوبی جمیل احمد نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا ’انھوں نے ٹی ٹو ایف میں سبین محمود کے ساتھیوں سے اڑھائی گھنٹے تک تفصیلات معلوم کی ہیں جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کوئی تنازع ہوا تھا جس کے بعد سبین نے بینر ل کر اس کے حق میں مظاہرہ بھی کیا تھا۔‘

پولیس حکام کے مطابق کچھ حلقوں کی جانب سے سبین محمود کو دھمکیاں بھی مل رہی تھیں اسی لیے پولیس کو شبہ ہے کہ قتل میں کوئی شدت پسند یا کالعدم تنظیم ملوث ہوسکتی ہے۔

سبین محمود کو جمعے کی شب اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ بلوچستان میں جبری گمشدگی کے حوالے سے ایک پروگرام منعقد کرنے کے بعد اپنی والدہ کے ساتھ گھر واپس جا رہی تھیں۔

سبین محمود کے قتل کے واقعے کو پانچ روز گذرنے کے بعد باجود پولیس کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہے۔

ڈی آئی جی جمیل احمد کا کہنا تھا کہ جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے جو خالی خول ملے وہ کسی اور واقعے سے مشہابت نہیں رکھتے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوا، کوئی چشم دید گواہ بھی دستیاب نہیں جبکہ ڈرائیور کہتا ہے کہ وہ اس وقت چھپ گیا تھا۔

سماجی ادارے ٹی ٹو ایف کی ڈائریکٹر سبین پر حملے میں ان کی والدہ بھی زخمی ہوئیں تھیں، جنھیں چند روز کے علاج کے بعد گذشتہ روز ہپستال سے فارغ کردیا گیا۔

ڈی آئی جی جمیل احمد کے مطابق پولیس سبین کی والدہ کا بیان لینا چاہتی ہے لیکن واحد اولاد کے قتل پر وہ صدمے سے دوچار ہیں، ہوسکتا ہے کہ اپنے بیان میں وہ کسی کی نشاندہی کریں۔

اسی بارے میں