آفتاب احمد خان شیر پاؤ کےقافلے پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’ایک خودکش بمبار پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا‘

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر چارسدہ میں قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے قافلے پر حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا تاہم شیر پاؤ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق قومی وطن پارٹی کے رہنما چارسدہ میں عالم زیب عمرزئی کی برسی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے کہ چارسدہ میں سکول کورانہ کے مقام پر ریموٹ کنٹرل بم دھماکہ کیا گیا۔ جس میں اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

آفتاب شیر پاؤ کے بیٹے سکندر شیر پاؤ نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ’ جلسے گاہ سے ابھی تقریباً پانچ سو گز ہی واپس پہنچے تھے کہ دو خودکش حملہ آوروں نے قافلے پر حملے کی کوشش کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سکندر شیر پاؤ کے بقول اس سے پہلے ان کے والد پر اس سمیت پانچ جان لیوا حملے ہو چکے ہیں

انھوں نے بتایا کہ’ایک خودکش حملہ آور کو قافلے کے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا جبکہ دوسرا حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور اس کے نتیجے میں ایک پولیس موقعے پر ہی ہلاک ہو گیا۔‘

سکندر شیر پاؤ کے مطابق حملے میں ان کے والد اور وہ محفوظ رہے۔

سکندر شیر پاؤ کے بقول اس سے پہلے بھی ان کے والد پر اس سمیت پانچ حملے ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ قومی وطن پارٹی کے ممبر صوبائی اسمبلی عالم زیب عمر زئی سنہ 2010 میں ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

حملے کی ذمہ داری کسی گروہ یا فرد نے قبول نہیں کی۔

اسی بارے میں