دیامر میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu
Image caption الیکشن کمیشن کےضابطہ اخلاق کے تحت سیاسی جماعتوں کو خواتین کی انتخابی عمل میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنی ہے

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے دو علاقوں میں خواتین کی ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد کردی گئی ہیں۔ وادی داریل میں ہونے والے ایک مقامی جرگے نے گلگت بلتستان کے قانون ساز اسمبلی کے آٹھ جون کو ہونے والے انتخابات میں خواتین کی ووٹ ڈالنے پر پابندی لگادی ہیں۔

علاقے کے مقامی شخص قاسم نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو منعقد ہونے والے اس جرگے میں علاقے کے علما، پانچ مقامی مشران اور انتخابی امیدواران نے شرکت کی جن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حیدر خان، پیپلز پارٹی کے دافر خان ، جے یو آئی (ف) کے رحمت خالق، پی ٹی آئی کے ڈاکٹر زمان اور آزاد امیدوار شمس الرحمان شامل تھے۔

جرگے میں شریک افراد نے اس بات پر اتفاق اور عہد کیا کہ خواتین کو گھروں سے ووٹ کے لیے نکالنا علاقے کے رسم و رواج اور ثقافت کے خلاف ہے، لہذا جرگے کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے والے ہر امیدوار سے پانچ پانچ افراد کی ضمانت لی گئی ہیں تا کہ ایلکشن کے دن وہ اس پابندی کی خلاف ورزی نہ کرے اور خواتین کو پولنگ سٹیشن لانے سے گریز کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc urdu
Image caption جرگے میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی

اس حلقہ انتخاب سے پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر زمان نے اس پابندی کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ جرگے نے جو فیصلہ کیا ہے اسے ہم قبول کرتے ہیں کیونکہ یہاں پر خواتین کے لیے پولنگ سٹیشنز میں خواتین سٹاف نہیں ہوتی اور مرد بیٹھے ہوتے ہیں جو علاقے کی روایات کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق پچھلے انتخابات میں اس وجہ سے خونریز لڑائی ہوئی تھی جسمیں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق داریل کے علاقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد بارہ ہزار پانچ سو پچاس ہے جو اس الیکشن میں اپنی رائے حق دہی سے محروم رہ جائیں گی۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس سے پہلے اس علاقے میں خواتین نے ووٹنگ میں حصہ لیا تھا۔ اس علاقے کے ایک مقامی شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دیامر کے ایک اور علاقے تانگیر میں خواتین کی ووٹنگ پر پہلے سے ہی پابندی عائد ہے اور وہاں الیکشن کے دن خواتین کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔

دوسری طرف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن نے اس حوالے سےبھی ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے جس میں سیاسی جماعتیں خواتین کی انتخابی عمل میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کریں گے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی انتخابی بے ضابطگی تصور ہوگی جس کے بنیاد پر ان کے خلاف قانونی اور قواعد کے مطابق کارروائی ہوگی جس میں امیدوار کا نااہل ہونا بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کے دوران کوہستان سمیت محتلف علاقوں میں مقامی جرگوں کی طرف سے خواتین کی ووٹنگ پر پابندی لگانے کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔