سابق ایس ایس پی راؤ انوار پرحملہ، پانچ مبینہ حملہ آور ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سابق ایس ایس پی راؤ انوار گذشتہ روز قتل ہونے والے ڈی ایس پی فتح محمد گھر تعزیت کے لیے جارہے تھے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے قافلے پر ہونے والے ایک حملے میں پانچ مبینہ حملہ آور ہلاک ہوگئے ہیں۔

کراچی پولیس کے ترجمان عتیق کے مطابق سابق ایس ایس پی راؤ انوار گذشتہ روز قتل ہونے والے ڈی ایس پی فتح محمد گھر تعزیت کے لیے جارہے تھے کہ ان کے قافلے پر سٹیل ٹاؤن کے نزدیک واقع ملیر لنگ روڈ کے قریب پر کریکر پھیکا گیا اور ساتھ ہی فائرنگ کی گئی تاہم پولیس کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔

پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک مبینہ حملہ آور ہلاک ہوگیا جس کے بعد دیگر حملہ آوروں کا تعاقب کیا گیا اور ان سے فائرنگ کے تبادلے میں مزید چار مبینہ حملہ آور ہلاک ہوگئے۔

یاد رہے کہ ایس ایس پی راؤ انوار نے دو دن پہلے ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں متحدہ قومی موومنٹ اور ان کے قائد الطاف حسین پر بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلقات کا الزام عائد کیا تھا اور دو ملزمان طاہر عرف لمبا اور جنید کی گرفتاری ظاہر کی تھی۔

راؤ انوار نے دونوں ملزمان کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ کا بتاتے ہوئے ایم کیو ایم پر ملک کے خلاف سرگرمیوں کا الزام لگایا تھا۔

تاہم بعد میں آئی جی سندھ نے انھیں ایس ایس پی ملیر کا چارج چھوڑکر سی سی پی او کے دفتر میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔

کراچی میں طویل عرصے سے جاری آپریشن میں حکومت کی جانب سے کئی مرتبہ کامیابیوں کے دعوے کیے گئے ہیں تاہم ایک ہفتے کے دوران ایک ڈی ایس پی فتح محمد سمیت ٹی ٹو ایف کی مالک سبین محمود اور کراچی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر وحیدالرحمان جو یاسر رضوی کے نام سے جانے جاتے تھے ہدف بنا کر قتل کیے گئے۔ اسی وجہ سے اکثر ناقدین حکام کی جانب سے کراچی آپریشن میں کامیابی کے دعوؤں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

اسی بارے میں