غلطی سے سرحد پار کرنیوالے شہری کی ہلاکت پر پاکستان کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحد پار کرنے والے شہری امانت علی غیر مسلح تھے۔

پاکستان نے غلطی سے سرحد عبور کرنے والے پاکستانی شہری کی بھارتی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاکت پر شدید احتجاج کیا ہے اور معصوم شہری کی ہلاکت پر بھارتی ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ میں طلب کیا گیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی شہری امانت علی کو بھارتی سیکورٹی فورسز نے اس وقت نشانہ بنایا جب انھوں نے پاکستانی علاقے شکر گڑھ سے غلطی سے سرحد پار کی۔ بھارتی ہائی کمشنر سے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا سرحدی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحد پار کرنے والے شہری امانت علی غیر مسلح تھے۔

خیال رہے کہ 31 دسمبر 2014 کو ورکنگ باؤنڈری کے شکر گڑھ سیکٹر میں بھارتی سرحدی فورسز اور چناب رینجرز کے درمیان فائرنگ کا تبادلے میں دو پاکستانی اور ایک بھارتی اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔

واقعے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی وزیر خارجہ کو خط بھی لکھا تھا۔

خط کے متن کے مطابق:’اس افسوسناک واقعے سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ امن وامان قائم رکھنے کے بارے میں دونوں ملکوں کے معاہدے کونقصان پہنچے گا۔‘

پاکستان سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت کی سرحدی فورس کے ایک پوسٹ کمانڈر نے فلیگ میٹنگ بلائی تھی اور جب رینجرز اہلکار اس میں شرکت کرنے پہنچے تو ان پر فائرنگ کر دی گئی اور اس واقعے میں رینجرز کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور واجپائی کے دور اقتدار میں دونوں ملکوں نے سرحدوں اور عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول پر فائربندی کا معاہدہ 2003 میں ہوا تھا لیکن اکثر اوقات سرحدوں پر فائرنگ ہوتی رہی اور ہر بار دونوں ملک ایک دوسرے کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہراتے ہیں۔

اسی بارے میں