این اے 125 میں انتخاب کالعدم، دوبارہ الیکشن کروانے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک انصاف کے امیدوار حامد خان کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ این اے 125 میں دھاندلی کی گئی

انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے الیکشن ٹریبیونل نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 125 میں دھاندلی کے الزامات ثابت ہونے پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا ہے اور حلقے میں دوبارہ انتخاب کروانے کا فیصلہ سنایا ہے۔

یہ فیصلہ پیر کو الیکشن ٹرییبونل کے جج جاوید رشید محبوبی نے سنایا۔

الیکشن ٹریبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن دو ماہ کے اندر اندر علاقے میں دوبارہ انتخابات منعقد کروائے۔

سنہ 2013 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے اس حلقے سے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے امیدوار خواجہ سعد رفیق کامیاب ہوئے تھے۔ سعد رفیق اس وقت وزرات ریلوے کے وفاقی وزیر ہیں۔

قومی اسمبلی اس حلقے میں لاہور کے ڈیفنس، کیولری گراؤنڈ، والٹن غازی روڈ اور نشاط کالونی کے علاقے شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار حامد خان نے الیکشن ٹرییبونل میں خواجہ سعد رفیق کے خلاف درخواست دائر کی تھی اور اُن پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔

انتخابات کے بعد 22 ماہ تک حامد خان کی درخواست الیکشن ٹریبیونل نے کارروائی کرنے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔

گذشتہ ماہ الیکشن ٹربیونل کے سربراہ جاوید رشید محبوبی نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جس کے بعد الیکشن ٹربیونل نے این اے 125 پر پیر کو تفصیلی فیصلہ سنایا۔

تحریک انصاف کے امیدوار حامد خان کے وکیل نے الزام عائد کیا تھا کہ این اے 125 میں دھاندلی کی گئی اور اس لیے خواجہ سعد رفیق کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جائے۔

فیصلہ آنے کے بعد خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’الیکشن ٹریبیونل کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے اور یہ فیصلہ پریزائیڈنگ آفیسرز اور ریٹرننگ آفیسرز کی نااہلی کے خلاف ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا حق موجود ہے لیکن اس کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ٹریبیونل کو 265 پولنگ سیٹشنوں میں سے صرف سات سٹیشنوں میں دھاندلی کے ثبوت ملے ہیں۔

اسی بارے میں