پاکستان میں شمسی توانائی کے سب سے بڑے منصوبے کا افتتاح

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس منصوبے کے ذریعے ابتدا میں 100 میگا واٹ جبکہ آئندہ عرصےمیں کل ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور میں واقع قائداعظم سولر پارک کے پہلے یونٹ کا افتتاح کر دیا ہے۔

اس منصوبے کو نہ صرف پاکستان میں شمسی توانائی کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، بلکہ قائداعظم سولر پاور نامی سرکاری کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا ’فوٹو والٹیک آزمائشی منصوبہ‘ بھی ہے۔

بجلی سے محروم پاکستانیوں کو سورج کا سہارا

وزیراعظم نواز شریف نے منگل کو اس منصوبے کا افتتاح کیا جس سے ابتدائی طور پر 100 میگا واٹ جبکہ آئندہ دو سال کی مدت میں 1000 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق اس سلسلے میں یہ آزمائشی منصوبہ 11 ارب روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے جس کے تمام اخراجات پنجاب حکومت نے برداشت کیے ہیں۔

اس منصوبے کی تکمیل میں 11 ماہ کا عرصہ لگا اور اس کے لیے 500 ایکڑ زمین مختص کی گئی ہے اور وہاں چار لاکھ شمسی پینل نصب ہیں۔

منصوبے کے دوسرے مرحلے میں 900 میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ اس سلسلے میں 132 کے وی ٹرانسمیشن لائن اور گرڈ سٹیشن بھی قائم کیے گئے ہیں۔

بہاولپور میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ چین کے پاکستان میں سفیر سی ون ڈانگ بھی شریک تھے۔

مفت بجلی

پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے تقریب سے خطاب میں منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے ہمسایہ ملک چین کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ منصوبے کے لیے چینی کمپنی نے دو ارب روپے کی رعایت دی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں چین کے صدر نے پاکستان کے دورے کے موقعے پر اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کا سنگِ بنیاد رکھا تھا۔

منصوبے کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین اور پاکستان اب مل کر ایک خصوصی کمیٹی بنائیں گے تاکہ اِن منصوبوں کی تیز رفتاری کے ساتھ مقررہ وقت کے اندر تکمیل ممکن ہو سکے۔

’ایک سال پہلے یہاں جب ہم نے اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا تو صرف مٹی کے ٹیلے تھے اور آج یہاں پینلز کا سمندر نظر آتا ہے۔ یہاں سے اب 100 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے اور آپ دیکھیں گے کہ یہاں سے مزید 900 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی جو صرف پاکستان کا نہیں بلکہ دنیا میں سولر کا سب سے بڑا پلانٹ ہوگا۔‘

وزیراعظم نے بتایا کہ قائد اعظم سولر پاور پروجیکٹ پہ 3000 مزدور کام کرتے رہے ہیں جبکہ آٹھ سو افراد اس منصوبے پر مستقل کام کرتے رہیں گے۔

وزیراعظم نواز شریف اور وزیرِاعلی شہباز شریف نے ان تین ہزار مزدوروں کے لیے دو کروڑ روپے انعام اور اس پروجیکٹ کے سربراہ سید نجم کی خدمات کی حوصلہ افزائی کے لیے اُنہیں ’تمغہ خدمت‘ دینے کا اعلان کیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ملک میں جاری دیگر منصوبوں کا ذکر بھی کیا اور بتایا کہ مجموعی طور پر ان منصوبوں سے 10400 میگاواٹ تک بجلی پیدا ہوگی۔ جو سن د2018 تک ملکی ضرورت پوری کرے گی بلکہ ضرورت سے زیادہ ہوگی۔

وزیراعظم نواز شریف نے گذشتہ سال اس منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد کہا تھا کہ پاکستان کے قیام کے بعد سے اب تک 23 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی ہے تاہم موجودہ حکومت آئندہ آٹھ برسوں کے دوران سسٹم میں مزید 21 ہزار میگاواٹ اضافے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں