شاہ دولہ کا پل

  • 5 مئ 2015
شاہ دولہ کا پل
Image caption لاہور کے پاس واقع پل شاہ دولہ صدیوں سے کھڑا زمانے کے نشیب و فراز دیکھ رہا ہے

جموں کی پہاڑیوں سے نکلنے والی دیوکا یا ڈیگ ندی تاریخ میں متلون مزاجی کی وجہ سے خاصی بدنام رہی ہے۔ عام طور پر تو یہ ایک معمولی سے دھارے کی شکل میں رہتی ہے، لیکن ساون بھادوں کی بارش میں بپھرا ہوا اژدہا بن جاتی ہے۔

تزکِ جہانگیری سے پتہ چلتا ہے کہ سنہ 1620 کے بھادوں کی بارشوں میں شکار کے بعد شہنشاہ جہانگیر نے اس پر ایک پل باندھنے کا حکم دیا تھا۔

چند ہی مہینوں میں تیار کیا ہوا پل آج بھی لاہور اور شیخوپورہ کے درمیان کوٹ پنڈی داس کے چھوٹے سے گاؤں کے پاس دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح کا ڈیگ پر ایک پل قدیم شاہی سڑک (جی ٹی روڈ) پر مریدکے سے کوئی 20 کلومیٹر شمال میں بھی موجود ہے۔ وضع قطع سے یہ پل پنڈی داس کے پل کی طرح 17ویں صدی کا ہی ہے لیکن یہ اس سے قدرے بعد کا بنا ہوا ہے۔ اس پل کی پراسراریت یہ ہے کہ مغل تاریخ میں ہمیں اس کی تعمیر کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

سنی سنائی باتوں سے صرف یہی خبر ملتی ہے کہ گجرات میں دفن شاہ دولہ نامی بزرگ نے اس کی تعمیر کروائی جس کی وجہ سے اسے ابھی تک پل شاہ دولہ ہی کہا جاتا ہے۔ بلکہ پل سے ملحق آبادی بھی اسی نام سے جانی جاتی ہے۔

ایک روایت کے مطابق کسی غیر معین سال میں کشمیر سے واپسی پر شاہ جہاں کا خزانہ ڈیگ کو پار کرتے ہوئے اس مقام پر دریا برد ہو گیا جس پر بادشاہ نے اس پل کی تعمیر کا حکم دیا۔ متواتر بارشوں کے باعث علاقے کا ناظم بدیع الزماں کئی ہفتے پکی اینٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ جب شاہ جہاں نے باز پرس کی تو اس نے کہا کہ یہ کام رفاعِ عامہ کے کاموں کا ماہر شاہ دولہ ہی کر سکتا ہے۔ چناچہ اس شخص کو گجرات سے طلب کر کہ پل کی تعمیر کا کام سونپا گیا۔

سبحان رائے کی خلاصہ التواریخ میں بھی اس پل کا ذکر یوں ہے کہ یہ ایمن آباد سے پانچ کوس (16 کلومیٹر) لاہور کی جانب واقع ہے۔ گو کہ تعمیر کا کوئی سال نہیں بتایا گیا لیکن ایک بار پھر اس کی تعمیر شاہ دولہ کے نام ہی لگتی ہے۔ ایک تحقیق سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس پل کا نام دراصل پل سعد اللہ خان تھا۔ یہ سعد اللہ بھی شاہ جہاں کے درباری تھے جو عوام کی خدمت کی وجہ سے اچھی شہرت رکھتے تھے۔

ان تمام شواہد سے اگر ہمیں پل سعد اللہ یا پل شاہ دولہ کی تعمیر کا سال نہیں بھی پتہ چلتا تو ہم اتنا ضرور جان سکتے ہیں کہ ڈیگ ندی کو پار کرنے والا یہ پل شاہ جہانی دور کا ہے۔ یعنی یہ سنہ 1628 سے 1658 کے درمیان کسی وقت تعمیر ہوا تھا۔

البتہ تاریخ ہمیں یہ ضرور بتاتی ہے کہ اورنگزیب عالمگیر کی موت پر جو اس کے بیٹوں کے درمیان بھگدڑ مچی تو اس میں شاہ عازم نے دکن میں فوراً تاج پہن لیا۔ لیکن پشاور میں تعینات شاہ عالم بھی مات کھانے والا نہ تھا۔ لاہور پہنچ کر اپنی تاج پوشی کرانے کی خاطر وہ ابھی شاہ دولہ کا پل پار ہی کر رہا تھا کہ دکن میں تاج پوشی کی خبر اس کو آ پہنچی۔ چناچہ اس نے وہیں ڈیگ ندی کے کنارے پل کی چھاؤں میں اپنے آپ کو تاج پہنا کر بادشاہ بنا لیا۔

تو بات یوں ہوئی کہ شاہ جہانی پل شاہ دولہ نے کچھ نہیں تو کم از کم ساڑھے تین سو ساون بھادوں کی بارشیں اور طغیانیاں دیکھی ہیں اور یوں مستعد کھڑا ہے کہ آج بھی اس پر سے لدے ہوئے ٹرک گزرتے ہیں۔

مغل دور ہو یا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بادشاہی یا انگریزوں کی فرمانروائی، پل شاہ دولہ نے کبھی مسئلہ کھڑا نہیں کیا۔ لیکن اب پچھلے چند سال کی بارشوں کے بعد پنجاب کے محکمۂ انہار کے تاریخ سے بے بہرہ افسران نے یہ طے کر لیا ہے کہ اس بوسیدہ پل کو ڈھا دیا جائے کیونکہ یہ پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔

اس حوالے سے سیکریٹری صاحب کو پیش کرنے کے لیے ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ لکھنے والے کو یہ علم نہیں تھا کہ جس پل کو گرانے کے لیے وہ کوشاں ہے وہ ایک تاریخی عمارت ہے جو کسی بھی دوسرے ملک میں قومی ورثہ مانی جاتی۔

سیکریٹری سیف انجم کو پل کی اہمیت بتائی گئی اور یہ تجویز دی گئی کہ ندی کے بائیں کنارے کے ساتھ پانی کے لیے اگر ایک نئی گزرگاہ تیار کر لی جائے تو پنجاب کے تاریخی ورثے کا انمول نمونہ بچایا جا سکتا ہے تو وہ فوراً مان گئے۔

لیکن انگریزی ضرب المثل ہے کہ پیالی کے ہاتھ سے ہونٹوں تک پہنچنے کے بیچ کئی لڑکھڑاہٹیں ہوتی ہیں۔ پچھلے تیس چالیس برس میں یہی دیکھا گیا ہے کہ پنجاب میں بڑی طاقتوں کو تاریخی ورثے اور ماحول کو بچانے کا ذرہ بھر بھی احساس نہیں۔ یہاں نشانِ کہن کو خواہ وہ صدیوں پرانا پیڑ ہو یا عمارت اسے نیست و نابود کر دیا جاتا ہے۔

سیکریٹری صاحب اپنے سے اوپر بہت سی بے علم طاقتوں کو جواب دہ ہیں، جو عقل و دانش کی بات سننے کو تیار نہیں۔

لیکن اب خوش قسمتی یہ ہے کہ منصور علی شاہ جیسےدور اندیش منصف لاہور ہائی کورٹ میں موجود ہیں۔ جس سے امید بندھ گئی ہے کہ پل شاہ دولہ ابھی مزید کئی سو طغیانیاں برداشت کرے گا۔

اسی بارے میں