قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرارداد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سے پہلے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں الطاف حسین کے بیان کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور ہو چکی ہیں

پاکستان کی دفاع سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے فوجی قیادت پر تنقید سے متعلق متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے بیان کے خلاف ایک زبانی مذمتی قرار داد منظور کی ہے، جبکہ اس کمیٹی میں شامل ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ اُن کے قائد کے بیان کے خلاف اس طرح کی تحریک لانے کے لیے یہ مناسب فورم نہیں ہے۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی راحیل اصغر کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی کا اجلاس منگل پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین نے فوجی قیادت سے متعلق الطاف حسین کے بیان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ موجودہ حالات میں الطاف حسین کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔

تاہم اُنھوں نے الطاف حسین کی طرف سے اس بیان کے بعد معافی مانگنے کو خوش آئند قرار دیا۔

اجلاس میں موجود دیگر ارکان نے بھی الطاف حسین کے بیان کی بھی مذمت کی اور اس بیان کے بعد اُن کے خلاف زبانی مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی۔

اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی سنجے پروانی نے کہا کہ اس طرح کی قراردادیں لانے کے لیے یہ مناسب فورم نہیں ہے، جس پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں منتخب ارکان موجود ہیں اور ایسی قرارداد لانے کے لیے یہی مناسب فورم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین نے فوجی قیادت سے متعلق الطاف حسین کے بیان کی شدید مذمت کی

سیکرٹری دفاع عالم خٹک کا کہنا تھا کہ فوجی قیادت سے متعلق فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے جو بیان دیا ہے وہی بیان وزارت دفاع کا بھی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ایسا بیان دینے پر ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

اُدھر پنجاب اسمبلی میں حکمران جماعت نے بھی الطاف حسین کے بیان کے خلاف قرارداد جمع کروائی ہے جس میں فوجی قیادت سے متعلق ایم کیو ایم کے رہنما کے بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اس سے پہلے حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے بھی پنجاب اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف قرار جمع کروائی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے۔

اس سے پہلے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں الطاف حسین کے بیان کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور ہو چکی ہیں جبکہ سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش نہیں ہونے دی گئی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی پریس کانفرنس کے بعد الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فونک خطاب میں مذکورہ پولیس افسر کے ساتھ ساتھ فوجی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں راولپنڈی میں نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے قیام کے بل کی بھی منظوری دی گئی۔

اسی بارے میں