شہباز بھٹی قتل کیس میں گواہوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو مارچ سنہ 2011 میں اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے مقدمے میں عدالت میں پیش نہ ہونے پر چھ گواہان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

عدالت نے مقامی پولیس کو حکم دیا ہے کہ ان افراد کو گرفتار کر کے 13 مئی تک عدالت میں پیش کیا جائے۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج سہیل اکرم نے بدھ کو اس مقدمے کی سماعت کی، مگر اس مقدمے کے چھ گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ ان گواہوں کی جان کو خطرہ ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت میں پیش ہونے سے قاصر ہیں۔

فاضل عدالت استفسار کیا کہ اس ضمن میں اسلام آباد پولیس نے گواہوں کو سکیورٹی بھی فراہم کی تھی لیکن اس کے باوجود وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے؟

تھانہ آئی نائن کے انچارج اسجد محمود کے مطابق عدالتی احکامات کی روشنی میں پولیس کا ایک خصوصی دستہ گواہوں کی حفاظت پر مامور کیا گیا ہے۔

عدالت نےکہا کہ گواہوں کا پیش نہ ہونا عدالتی امور میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے چھ گواہوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو آئندہ سماعت پر انھیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو مارچ سنہ 2011 میں اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

پولیس کو سابق وفاقی وزیر کی لاش کے پاس ایک پمفلٹ بھی ملا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ توہین مذہب کے قانون کی مخالفت کرنے والے کی سزا موت ہے۔

تھانہ آئی نائن کے انچارج کے مطابق اس مقدمے میں ایک کالعدم جماعت کے رکن حماد اعظم کو مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ ملزم کا بھائی پنجاب پولیس میں ایس ایس پی رینک کا افسر ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قتل کے اس مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کو ختم کر دیا ہے جس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اس مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کو بحال کیا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو ماہ قبل مجرم ممتاز قادری کی درخواست پر انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں انھیں دو بار سزائے موت دینے کے فیصلے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت موت کی سزا کو کالعدم قرار دیا تھا جبکہ قتل کی دفعات کے تحت سزائے موت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔

اسی بارے میں