اقتصادی راہداری کے روٹ میں مبینہ تبدیلی پر کوئٹہ میں ہڑتال

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بھی ہڑتال ہوئی اور کاروبار زندگی معطل رہا

پاکستان کی مشرق وسطیٰ کی منڈیوں تک رسائی کے لیے اقتصادی راہداری کے روٹ میں مبینہ تبدیلی پر صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہوئی۔

بدھ کو ہونے والی اس ہڑتال کی اپیل سیاسی جماعت، عوامی نیشنل پارٹی نے دی تھی جبکہ بعض دیگر جماعتوں نے اس کی حمایت کی تھی۔

’راہداری منصوبہ صرف ایک سڑک نہیں‘

ہڑتال کے باعث شہر کے تمام اہم تجارتی مراکز دکانیں بند تھیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی عام دنوں کی بہ نسبت کم تھی۔

اطلاعات ہیں کہ کوئٹہ کے علاوہ بلوچستان کے دیگر اضلاع میں بھی ہڑتال ہوئی اور کاروبار زندگی معطل رہا۔

نامہ نگار کے مطابق شہر بھر سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

عوامی نیشنل پارٹی اور بعض دیگر جماعتوں کا یہ موقف ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے پہلے سے طے کیے گئے روٹ کے مطابق یہ سڑک کوئٹہ اور ژوب سے ہوتی ہوئی، خیبر پختونخوا سے گزرنا تھی۔ لیکن اس کے روٹ میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ اب اقتصادی راہداری کے معاہدے کے تحت یہ سڑک گوادر سے خضدار اور پھر وہاں سے سندھ کے علاقے رتو ڈیرو پہنچے گی۔ واضح رہے کہ چند روز قبل کوئٹہ میں جماعت اسلامی بلوچستان کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ سے ملاقات کے موقع پر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا تھا کہ راہداری منصوبے کے روٹ میں تبدیلی کے حوالے سے انھیں آگاہ نہیں کیا گیا۔

لیکن گزشتہ روز وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے کوئٹہ کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر عبد القادر بلوچ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ اس سلسلے میں سب کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔

پاکستان چین کے تعاون سے گوادر سے کاشغر تک اقتصادی راہداری بنا رہا ہے تاکہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے ممالک تک رسائی حاصل کر سکے۔

اسی بارے میں