رفیق رجوانہ: جوڈیشل میجسٹریٹ سے گورنر تک

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption رفیق رجوانہ سینیٹ کی خارجہ امور قانون اور انصاف اور انسانی حقوق سمیت کئی کمیٹیوں کے رکن ہیں۔ حلف برداری کے بعد وہ پنجاب کے 36 ویں گورنر بن جائیں گے

ملتان سے تعلق رکھنے والے ملک محمد رفیق رجوانہ کو وزیر اعظم پاکستان نے پنجاب کا گورنر تعینات کرنے کے فیصلہ کیا ہے۔

رفیق رجوانہ بنیادی طور پر قانون دان اور سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹ ہیں، تاہم ان کا شمار جنوبی پنجاب کی متحرک سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط اپنے سیاسی کریئر میں وہ ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ ن سے وابستہ رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے ہی انھیں دو مرتبہ سینیٹر منتخب کروایا۔

رفیق رجوانہ 20 فروری 1949 کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نےملتان ڈگری کالج سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد لاہور کے ایف سی کالج سے معاشیات میں ماسٹرز کیا۔ پھر پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی ڈگری لی اور جوڈیشل آفیسر تعینات ہوئے۔

تاہم انھوں نے جلد ہی بحثیت ایڈیشنل اینڈ سیشن جج استعفیٰ دیا اور سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ 1979 میں ملتان سے کونسلر رہے۔ سنہ 1985 میں صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔

نامزد گورنر پنجاب 1996 میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر بھی رہے۔ 1998 میں پاکستان مسلم لیگ ن نے انھیں سینیٹر منتخب کروایا۔

2012 میں ایک مرتبہ پھر رفیق رجوانہ کو پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے سینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا۔ اور وہ اپنی جماعت کی حمایت سے دوسری مرتبہ مارچ 2018 تک کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے۔ لیکن یہ مدت پوری ہونے سے پہلے ہی انھیں پنجاب کا گورنر تعینات کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

رفیق رجوانہ پاکستان مسلم لیگ ن ملتان کے جنرل سیکرٹری، سینیئر نائب صدر، مسلم لیگ ن پنجاب سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور اپنی جماعت کے لائرز ونگ کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔

رفیق رجوانہ 25 سال سے وکالت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ان کا شمار ملک کے نامور وکیلوں میں ہوتا ہے۔ نامزد گورنر مختلف کیسز میں وزیر اعظم نواز شریف وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ن لیگ کے دوسرے رہنماؤں سردار ذوالفقار کھوسہ، راجہ ظفرالحق، ظفر اقبال جھگڑا اور خواجہ سعد رفیق کی وکالت بھی کرچکے ہیں۔

پنجاب کے گورنر کا عہدہ 29 جنوری کو چوہدری محمد سرور کے استعفے کے بعد سے خالی تھا۔ اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر رانا محمد اقبال بحثیت قائم مقام گورنر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

تعیناتی سے پہلے رفیق رجوانہ نے اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ اپنی تعیناتی کے اعلان کے بعد ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صوبے کے عوام کی خدمت کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور اپنی پارٹی قیادت کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔

سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے صحافی سہیل وڑائچ نے رفیق رجوانہ کی تقررری پر کہا: ’تقرری سے ن لیگ کی فیصلہ سازی واضح نظر آتی ہے۔ جیسے پہلے ممنون حسین کو صدر بنایا تھا، اب ایک ممنون حسین کو گورنر بھی بنا دیا گیا ہے۔ سوچ یہ ہے کہ وفادار اور متوسط طبقے کے لوگوں کو موقع دیا جائے۔ اور یہ سب دو برے تجربات کی بنیاد پر کیا گیا۔ ذوالفقار کھوسہ اور چوہدری سرور۔ ان کی وجہ سے وہ بہت محتاط ہوگئے ہیں اور کسی ایسے شخص کو بالکل بھی گورنر نہیں بنانا چاہتے تھے جس میں سرکشی کے تھوڑے سے بھی جراثیم ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Senate of Pakistan
Image caption رفیق رجوانہ پاکستان مسلم لیگ ن ملتان کے جنرل سیکرٹری، سینیئر نائب صدر، مسلم لیگ ن پنجاب سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر اور اپنی جماعت کے لائرز ونگ کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں

اس بات سے تو تجزیہ کار حسن عسکری رضوی بھی اتفاق کرتے ہیں کہ رفیق رجوانہ کی سیاسی وفاداری نے اس تعیناتی میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے اگر اختلاف کیا بھی تو بند دروازوں کے پیچھے۔ پارٹی کے خلاف سرعام کوئی رائے اختیار نہیں کی۔ تاہم حسن عسکری رضوی سمجھتے ہیں کہ بحثیت گورنر تعیناتی میں رفیق رجوانہ کی جنوبی پنجاب سے وابستگی بھی کافی اہمیت رکھتی ہے۔

’پاکستان مسلم لیگ ن کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ ان کی حمایت بالائی اور وسطی پنجاب تک ہے۔ ان کی کابینہ کو دیکھا جائے تو لاہور سے شروع ہوکر اٹک پر ختم ہو جاتی ہے۔ تو اس تقرری کا ایک مقصد اس تاثر کو رد کرنا ہے کہ ن لیگ جنوبی پنجاب کو زیادہ اہیمت نہیں دیتی اور ساتھ ہی ساتھ رفیق رجوانہ کی وفا داری اور غیرمتنازع شخصیت نے بھی اس فیصلے میں کردار ادا کیا۔ گورنر کے عہدے کے لیے ایک ایسے ہی شخص کی ضرورت تھی۔‘

رفیق رجوانہ سینیٹ کی خارجہ امور قانون اور انصاف اور انسانی حقوق سمیت کئی کمیٹیوں کے رکن ہیں۔ حلف برداری کے بعد وہ پنجاب کے 36 ویں گورنر بن جائیں گے۔

اسی بارے میں