گوادر سے چھ یمنی باشندے بازیاب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق یہ افراد صرف عربی زبان جانتے ہیں جس سے ان سے تفتیش میں مشکل پیش آ رہی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں یمن سے تعلق رکھنے والے چھ افراد کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

گوادر پولیس کے ایس ایچ او امام بخش بلوچ نے فون پر بتایا کہ نیا آباد کے علاقے میں قتل کے مقدمے میں ایک مفرور ملزم کی موجودگی کی اطلاع تھی۔

انھوں نے بتایا کہ جب ملزم کی گرفتاری کے لیے اس مکان پر چھاپہ مارا گیا تو وہ وہاں موجود نہیں تھا لیکن وہاں زنجیروں میں جکڑے چھ افراد ملے۔ پولیس اہل کار کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان پر تشدد بھی کیا گیا ہے۔

ابتدائی تفتیش کے بارے میں پولیس اہل کار کا کہنا تھا کہ یہ افراد دو تین سال سے گوادر کے علاقے میں حبس بے جا میں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف عربی زبان جانتے ہیں جس سے ان سے تفتیش میں مشکل پیش آ رہی ہے، اور اس کی وجہ سے تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ لوگ کیوں آئے تھے اور ان کو یہاں حبس بے جا میں کیوں رکھا گیا تھا۔

خیال رہے کہ بلوچستان کی ایران سے متصل سرحدی اضلاع کے دشوار گزار علاقوں کو منشیات کے بین الاقوامی سمگلر استعمال کرتے ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق افغانستان میں جو منشیات بنتی ہیں ان کو سمگلر انھی راستوں سے بیرون ملک بھیجتے ہیں۔

اس سے قبل بھی گوادر اور اس سے متصل ضلع کیچ سے افریقی اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی بازیاب ہوئے تھے۔

سرکاری حکام نے بتایا کہ انھیں منشیات کے سمگلروں نے اپنی رقوم کی وصولی کے لیے بطور ضامن وہاں قید کر رکھا تھا۔

گوادر پولیس کے ایس ایچ او نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ یمن سے تعلق رکھنے والے ان چھ افراد کو بھی منشیات کے سمگلروں نے بطور ضامن قید رکھا ہو۔

اسی بارے میں