’رشتہ دار کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کی اطلاع نہ کرنے پر سزا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پیغام کے مطابق فوجداری قوانین کی دفعات کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے والے شخص کے رشتے داروں کو پھانسی، عمر قید ہو سکتی ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے کی عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے والے افراد کے رشتہ دار اُن کی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں پولیس میں اطلاع کریں نہیں تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

سنیچر کو پشاور سے شائع ہونے والے اخبارات میں عوام کو مطلع کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ایک پیغام شائع کیا گیا ہے۔

صوبائی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ عوام کو مطلع کرنے کے لیے یہ پیغام وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

ضروری اطلاع کے عنوان سے شائع ہونے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی گھرانے کا کوئی فرد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث پایا گیا تو گھرانے کے دیگر افراد کے خلاف بھی دہشت گردی کے قوانین کی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

اخبار میں عوام کو مطلع کیا گیا ہے کہ اگر اُنھیں یہ خدشہ ہو کہ اُن کے گھر کا کوئی بھی فرد، انفرادی یا کسی تنظیم کے رکن کی حثیثت سے، دہشت گردی کارروائی میں ملوث ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے گھر سے غائب ہے تو نزدیک کے تھانے میں رپورٹ کروائیں اور تھانے یا اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کے پاس لاپتہ شخص کی تصویر بھی جمع کروائی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ image
Image caption پشاور سے شائع ہونے والے اخبارات میں حکومت کی جانب سے پیغام شائع کیا گیا ہے

پیغام کے مطابق عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ اُن کے گھرانے کا فرد یا رشتے دار اگر دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث پایا گیا تو گھر والوں کے خلاف بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مرتب کیے گئے قومی ایکشن پلان کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

پیغام میں عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر اُن کے گھرانے کا کوئی فرد، انفرادی حیثیت میں یا کسی تنظیم کے رکن کے حیثیت میں کسی بھی دہشت گرد کارروائی میں ملوث پایا گیاتو اُن کے بھائی، والدین یا متعلقہ رشتے دار کے خلاف ضابطہ فوجداری اور دیگر دہشت گردی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

شائع ہونے والے پیغام کے مطابق فوجداری قوانین کی دفعات کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے والے شخص کے رشتے داروں کو پھانسی، عمر قید ہو سکتی ہے اور اُن کی منقولہ غیر منقولہ جائیداد بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔

دوسرے جانب انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے قوانین انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن آئی اے رحمان نے اس طرح کے اعلانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’قومی سلامتی کے نام پر قانون کو پامال کرنا فیشن بنتا جا رہا ہے۔‘

قانونی ماہر لطیف آفریدی نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین کے تحت ہر شخص اپنے فعل کا ذمہ داری ہے اور کسی عزیز یا رشتے دار کی عمل کی سزا کسی دوسرے کو دینا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’کسی جرم کی اجتمادعی ذمہ داری عائد کرنا کا قانون قبائلی علاقوں میں رائج ہے لیکن خبیر پختونخوا میں آئینِ پاکستان کا اطلاق ہوتا ہے اور آئین کسی بھی شہری کو بنیادی حقوق دیتا ہے اس لیے یہ تازہ اطلاع آئین کے منافی ہے۔‘

یاد رہے کہ خیبر پختونحوا کی سرحد سے متصل قبائلی علاقوں میں فرنٹریٹر ریگولیشن ایکٹ ایف سی آر نافذ ہے جس کے تحت کسی بھی جرم میں مجرم کے مفرور ہونے پر خاندان کے دیگر افراد کو سزا سنائی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں