تعلیمی صورتحال میں وزیراعلیٰ سندھ کا ضلع بدترین

Image caption رپورٹ کے مطابق ضلع میں پرائمری سکولوں میں سے تقریبا 60 فیصد سکولوں میں بجلی، 80 فیصد سکولوں میں پانی اور 67 فیصد میں لیٹرین کی سہولت ہے

پاکستان کے چاروں صوبائی وزرا اعلیٰ میں سے سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے ضلع خیرپور میں تعلیم کی صورتحال بدترین جبکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ضلع لاہور میں بہترین ہے۔

یہ انکشاف تعلیم کی صورتحال پر جاری کردہ ایک جائزہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، یہ رپورٹ الف اعلان اور ایس ڈی پی آئی نامی غیر سرکاری تنظیموں نے مشترکہ طور پر جاری کی ہے ۔

پاکستان کے 148 اضلاع کے جائزے کے مطابق سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا ضلع خیرپور 98ویں درجے پر ہے، وہ سات مرتبہ یہاں سے منتخب ہوئے ہیں جن میں تین بار وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ضلع میں پرائمری سکولوں میں سے تقریباً 60 فیصد سکولوں میں بجلی، 80 فیصد سکولوں میں پانی اور 67 فیصد میں لیٹرین کی سہولت ہے جبکہ صرف 56 فیصد سکولوں کی چار دیواری ہے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبداالمالک بلوچ کا ضلع کیچ، 148 میں سے 53 ویں درجے پر ہے، وہ تین مرتبہ یہاں سے منتخب ہو چکے ہیں اور صوبائی وزیر کے علاوہ سینیٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔

رپورٹ میں ضلع کیچ میں پرائمری سکولوں کی سہولیات کے فقدان کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں تقریباً 40 فیصد سکولوں میں بجلی، پانچ فیصد میں پانی اور 17 فیصد میں لیٹرین کی سہولت موجود ہے جبکہ صرف 27 فیصد عمارتوں کی چاردیواری ہے۔

خیبرپختون خوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کا ضلع نوشہرہ 25 ویں درجے پر ہے، وہ یہاں سے پانچ مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں اور مختلف منصبوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبداالمالک بلوچ کا ضلع کیچ، 148 میں سے 53 ویں درجے پر ہے، وہ تین مرتبہ یہاں سے منتخب ہوچکے ہیں

ضلع نوشہرہ میں پرائمری سکولوں میں سے تقریباً 73 فیصد سکولوں میں بجلی، 75 فیصد میں پانی اور 91 فیصد میں لیٹرین کی سہولت موجود ہے اسی طرح 94 فیصد عمارتوں کی چار دیواری بھی ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کا ضلع لاہور 148 میں سے تیسرے درجے پر ہے، وہ یہاں سے 6 مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں اور تین مرتبہ وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

لاہور کے پرائمری سکولوں میں سے 94 فیصد میں بجلی،97 میں پانی اور 92 فیصد میں لیٹرین کی سہولیت دستیاب ہے جبکہ 95 فیصد عمارتیں چاردیواری کے اندر موجود ہیں۔

الف اعلان اور ایس ڈی پی آئی کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق صوبائی اسمبلیوں میں قائد حزب اختلاف میں سے خیبر پختونخواہ کے اپوزیشن لیڈر مولانا لطف الرحمان کے ضلع کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے، ان کا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان 148 میں سے 74ویں درجے پر ہے، مولانا لطف الرحمان کا تعلق جمیعت علما اسلام فضل الرحمان سے ہے اور وہ یہاں سے 2 مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں۔

دوسرے نمبر پر بلوچستان کے اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع کے ضلع قلعہ سیف اللہ کی صورتحال سنگین ہے، یہ ضلع 148 میں سے 70 ویں درجے پر ہے۔ مولانا عبدالواسع کا تعلق بھی جمعیت علما اسلام فضل الرحمان سے ہے اور وہ 6 مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں۔

سندھ میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کے ضلع کراچی کی صورتحال قائد ایوان سید قائم علی شاہ کے ضلع خیر پور سے قدرے بہتر ہے، کراچی 148 اضلاع میں سے 43 ویں درجے پر ہے، خواجہ اظہار الحسن کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے اور وہ 2 مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں۔

Image caption قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا ضلع سکھر 148 اضلاع میں سے 73 ویں درجے پر موجود ہے

اس رپورٹ میں قومی اسمبلی میں پارٹی سربراہان کے اضلاع کی بھی درجہ بندی دی گئی ہے، جس کے مطابق 148 اضلاع میں سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا ضلع راولپنڈی پہلے، مسلم لیگ ن کے سربراہ اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کا ضلع لاہور تیسرے درجے پر ہے۔

مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری پرویز الہٰی کا ضلع گجرات 19ویں، عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی کا ضلع مردان 24ویں درجے، پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا ضلع قلعہ سیف اللہ 45ویں اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خالد مقبول صدیقی کا ضلع حیدرآباد 62ویں درجے پر موجود ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا ضلع سکھر 148 اضلاع میں سے 73 ویں درجے پر موجود ہے، خورشید شاہ یہاں سے 7 مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں، ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان 74 ویں درجے پر ہے، وہ یہاں سے پانچ مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں۔اسی طرح رکن سینیٹ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا ضلع لوئر دیر 78ویں درجے پر ہے وہ یہاں سے دو مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں