’ ضرب عضب پر 44 ارب روپے خرچ لیکن اہداف پورے کیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption وزیر خزانہ نے کہا کہ سال کے اختتام تک پاکستانی معشیت کی ترقی کی شرح 4.1 فیصد تک رہے گی

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کی وجہ سے حکومتی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے لیکن پھر بھی عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے دئیے گئے تمام اہداف پورے کیے ہیں۔

ضرب عضب کیا ہے؟

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان معیشت کے تفیصلی جائزے کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ہیرلڈ فنگر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن پر 44 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں جبکہ آپریشن سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے لیے 130 ارب روپے خرچ ہوں گے۔

’دفاعی اخراجات میں اضافہ پاکستانی معیشت کے لیے خطرہ‘

انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے 50 کروڑ ڈالر مالیت کی ساتویں قسط جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پہلے دو برسوں میں حکومت نے اقتصادی استحکام حاصل کیا ہے اور اب آئندہ تین برسوں میں اقتصادی ترقی کی جانب سفر شروع ہو گا۔ پاکستان کو دنیا ابھرتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔‘

وزیر خزانہ نے کہا کہ سال کے اختتام تک پاکستانی معیشت کی ترقی کی شرح 4.1 تک رہے گی۔

اس موقعے پر آئی ایم ایف مشن کے سربراہ نے کہا کہ پاکستانی معشت میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خام تیل اور اجناس کی قیمتوں میں کمی سے مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے لیکن آئندہ سال میں مہنگائی کی شرح بڑھنے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکومت لوڈشیڈنگ کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں مسائل اور رکاوٹوں کو ترجیحی بیناد پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے پانچ سو ارب تک پہنچ گئے ہیں۔

آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ اسے ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا ہو گا۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی برآمدات کم ہیں اور حکومت کو کاروبار کے لیے سازگار ماحول بنانا ہو گا۔

آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے وہ خسارے کا شکار سرکاری صنعتوں کی جلد نج کاری کرے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سالانہ ایک لاکھ اضافی افراد کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’یکم جنوری 2016 سے قومی ٹیکس نمبر ختم ہو جائے گا اور شناختی کارڈ ہی ٹیکس نمبر ہو گا۔‘

وزیر خزانہ نے کہا کہ پیڑولیم مصنوعات کی قیمتیوں میں کمی کی وجہ سے ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن کم ہوئی ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ رواں مالی سال کے آخر تک غریب خاندانوں کے لیے انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار ساڑھے تین لاکھ خاندانوں سے پانچ لاکھ گھرانوں تک کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں