لاہور ہائی کورٹ میں پالتو جانور کے مقدمے پر بحث

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE
Image caption لاہور ہائی کورٹ نے درخواست پر وکیل کے دلائل سننے کے بعد متعلقہ پولیس سے 14 دنوں میں جواب مانگ لیا

لاہور ہائی کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت میں یہ قانونی نکتہ پر زیربچث آیا ہے کہ کیا ڈاکٹر کی غلفت کی وجہ سے کسی پالتو جانور کی ہلاکت پر پاکستانی قوانین کے تحت کوئی قانونی کارروائی ہوسکتی ہے یا نہیں۔

یہ قانونی نکتہ اس درخواست میں سامنے آیا ہے جس میں میں پولیس کی جانب سے پالتو جانور کی ہلاکت کا مقدمہ درج نہ کرنے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جیمز جوزف نے اپنی نوعیت کی اس منفرد درخواست پر سماعت کی اور متعلقہ پولیس کو نوٹس جاری کر دیے۔

لاہور کی رہائشی ڈاکٹر عطیہ مسعود نے اپنے پالتو جانور یعنی بلے کو مبینہ طور غلط ٹیکہ لگانے او مطلوبہ مقدار سے زیادہ دوائی دینے والے ویٹرنری ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرانے کے لیے پولیس کو درخواست دی تھی۔

تاہم پولیس نے مبینہ طور پر غلط ٹیکے کی بناء پر مون نامی بلے کی موت کو ناقابل دست اندازی جرم قرار دے دیا اور بلے کی مالکہ کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔

ماضی میں بھی لاہور ہائی کورٹ میں اکادکا ایسی درخواستوں پر سماعت ہوئیں ہیں جن میں جانوروں کے حقوق کے بارے میں اہم نکات اٹھائے گئے ہیں ۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس جیمز جوزف کے سامنے درخواست گزار خاتون کے وکیل نے اس بات افسوس کا اظہار کیا کہ اندراج مقدمہ کے لیے سیشن کورٹ سے بھی رجوع کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور ماتحت عدالت نے پولیس کی موقف کی تائید کرتے ہوئے ان کی درخواست مسترد کردی۔

درخواست گززار کے وکیل عبدالرشید قریشی نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار ڈاکٹر عطیہ مسعود کو بلا بہت عزیر تھا اور وہ ان کو اس کی ہلاکت پر قانونی چارہ جوئی کا پورا حق حاصل ہے۔

عبدالرشید قریشی ایڈووکیٹ نے قانونی نکتہ اٹھایا کہ پاکستان قوانین کے تحت مرنے والے بلے کو غلط ٹیکہ لگانے پر متعلقہ ویٹرنری ڈاکٹر کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔

وکیل کے کہنا ہے کہ کسی جانور کو نقصان پہنچانا کے حوالے سے تعزیرات پاکستان کی شق447 بالکل واضح ہے اور اسی شق کے تحت وٹرنری کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر عطیہ مسعود کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس کو ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرکے قانونی کارروائی کا حکم دیا جائے۔

قانونی ماہرین کے مطابق تعزیرات پاکستان کی شق 447 کے تحت کسی ملزم کو اس شق کے تحت زیادہ سے پانچ سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں اکٹھی ہو سکتیں ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے درخواست پر وکیل کے دلائل سننے کے بعد متعلقہ پولیس سے 14 دنوں میں جواب مانگ لیا۔

پاکستان میں جانوروں پر تشدد ، ان سے نامناسب سلوک اور تکلیف پہنچنے کے تدراک کے لیے 1890 کا قانون رائج ہے تاہم پالتو جانور کے حوالے سے قوانین نہیں ہیں۔

ڈاکٹر عطیہ مسعود کے مطابق انہوں نے اپنے بالتو بلے کا علاج کرنے والے وٹرنری ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ سول کورٹ میں دائر کیا ہے جس میں غفلت برتنے پر اس کا لائسنس منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اسی بارے میں