کراچی میں ہلاک شدگان کی تدفین، ملک بھر میں سوگ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نماز جنازہ اور تدفین کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں بدھ کو اسماعیلیوں کے قتل پر ملک بھر میں یوم سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ ہلاک شدگان کی نماز جنازہ سخت سکیورٹی میں ادا کر دی گئی ہے۔

ہلاک شدگان کی تدفین سخی حسن قبرستان میں کی جا رہی ہے جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا آغا خان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ پرامن جماعت پر حملہ عقل سے عاری تشدد کی عکاسی کرتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ بدھ کو کیے جانے والے حملہ کے محرکات سیاسی یا فرقہ وارانہ ہو سکتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسماعیلی ایک پر امن عالمگیر برادری ہے جو دنیا بھر میں دوسرے نسلی اور مذہبی گروہوں کے ساتھ پر امن انداز میں رہتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسماعیلی برادری کے قائدین اس حملے میں بچ جانے کی مدد میں مصروف ہیں۔ بیان کے مطابق اس حملے میں 16 خواتین اور 27 مرد ہلاک ہوئے۔

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے بدھ کو ملک بھر میں جمعرات یعنی آج یوم سوگ کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب کراچی بس حملے کے تناظر میں کور ہیڈ کوارٹرز میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہو رہا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق اجلاس میں گورنر سندھ، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس، ڈی جی آئی ایس پی آر اور آئی جی سندھ شرکت کر رہے ہیں۔

ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ الاظہر گارڈن میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں اسماعیلی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ سیاسی شخصیات نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

Image caption کراچی میں تاجر تنظیموں نے بدھ ہی کو اعلان کیا تھا کہ وہ جمعرات کو کاروبار بند رکھیں گے

نماز جنازہ کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

الاظہر گارڈن سے آدھا کلومیٹر دور گاڑیوں کو روک دیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق 43 افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی جبکہ ایک کی نماز جنازہ بدھ ہی کو ادا کردی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باعث دس دس لاشیں تدفین کے لیے سخی حسن قبرستان روانہ کی جا رہی ہیں۔

کراچی میں تاجر تنظیموں نے بدھ ہی کو اعلان کیا تھا کہ وہ جمعرات کو کاروبار بند رکھیں گے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بدھ کی رات کراچی میں گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔

انھوں نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ بس پر حملے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

اس اجلاس میں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، گورنر عشرت العباد، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ، ڈی جی رینجرز اور کور کمانڈر کراچی کے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

وزیر اعظم کو ڈی جی رینجرز اور آئی جی غلام حیدر جمالی نے بس حملے کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات سے آگاہ کیا۔ پی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ بربریت کے واقعات انسداد دہشت گردی کے خلاف حکومت کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، اور معصوم لوگوں کے قاتلوں کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔

اسی بارے میں