’ایک منٹ میں سب کچھ ختم ہوگیا‘

Image caption سنہ 2005 میں7.6 کی شدت آنے والے زلزلے میں عبدالطیف کا وادی نیلم کے پہاڑ پر بنا گھر، زمین اور مال مویشی سب دریا برد ہو گیا تھا

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلعے مظفر آباد کی یونیورسٹی کے کھلے میدان میں اس خیمہ بستی کو اب اکثر مرمت کی ضرورت پڑتی ہے۔

ایک ترک غیر سرکاری تنظیم نے دس برس قبل یہ عارضی بستی زلزلے سے بے گھر ہونے والوں کے لیے بنائی تھی لیکن عبدالطیف کے لیے یہ عارضی خیمہ اب مستقل رہائش گاہ بن چکی ہے۔

سنہ 2005 میں7.6 کی شدت آنے والے زلزلے میں عبدالطیف کا وادی نیلم کے پہاڑ پر بناگھر، زمین اور مال مویشی سب دریا برد ہوگیا تھا۔

وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پناہ کی تلاش میں مظفر آباد میں قائم اس خیمہ بستی میں پہنچنے اور اس وقت سے یہیں مقیم ہیں۔

Image caption راجہ عبدالرؤف اس کمرشل مارکیٹ سمیت علاقے میں بڑے کاروبار کے مالک تھے لیکن ایک منٹ میں سب کچھ ختم ہو گیا اور ان کے پاس اب ملبے کا یہی ڈھیر بچا ہے

عبدالطیف کہتے ہیں کہ ان کی کل کائنات یہی جھونپڑی ہے۔

’ہمیں ابھی تک نہیں معلوم کہ حکومت نے جو زمین ہمارے لیے تیار کی ہے وہ ہمیں کب ملے گی؟ ان خیموں میں تو ہماری زندگی خراب ہو گئی ہے۔ اگر ہمارا کوئی عزیز مر جائے تو ہمارے پاس اسے دفنانے کے لیے بھی جگہ نہیں ہے اور اس کی قبر کے لیے ہمیں لوگوں کی منتیں کرنی پڑتی ہیں۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں میں آٹھ اکتوبر سنہ 2005 کو 7.6 کی شدت سے آنے والے زلزلے سے 73,000 افراد ہلاک ہوئے اور وسیع علاقے میں املاک کو نقصان پہنچا تھا۔

دس برس قبل آنے والے اس تباہ کن زلزلے سے 35 لاکھ افراد براہ راست متاثر ہوئے تھے۔ ان میں سے بیشتر اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔

لیکن عبدالطیف جیسے سینکڑوں زلزلہ متاثرین ایسے بھی ہیں جن کی زمین تک نہیں بچی ہے جس پر وہ گھر بنا سکیں۔

حکومت کہتی ہے کہ اس نے ان متاثرین کے لیے زمین مخصوص کر دی گئی ہے اور بہت جلد ان پر مکان بھی تعمیر کر دیے جائیں گے تاہم راجہ عبدالرؤف کے ساتھ تو کسی نے ایسا وعدہ بھی نہیں کیا۔

Image caption مظفر آباد ضلعے کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے

مظفر آباد کے مضافات میں ایک عمارت کا ملبہ دکھاتے ہوئے راجہ عبدالرؤف نے بتایا کہ وہ اس کمرشل مارکیٹ سمیت علاقے میں بڑے کاروبار کے مالک تھے لیکن ایک منٹ میں سب کچھ ختم ہو گیا اور ان کے پاس اب ملبے کا یہی ڈھیر بچا ہے۔

’میری 16 عمارتیں تھیں۔ سب کی سب کمرشل۔ زلزلے میں ایک بھی نہیں بچی۔ اس زلزلے نے مجھے تباہ کر دیا۔ جو لوگ ہم سے ادھار مانگتے تھے وہ بھی اب ہم سے بہتر ہیں۔ میں تو آسمان سے جیسے زمین پر آ گرا ہوں۔‘

مظفر آباد ضلعے کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ دس برس قبل آنے والے زلزلے کے بعد مظفر آباد کے مرکزی بازار کی رونقیں بحال ہو چکی ہیں تاہم راجہ عبدالرؤف کی طرح اب بھی سینکڑوں تاجر اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو سکے۔

Image caption زلزلے کے دس سال اور اربوں روپے خرچ ہونے کے بعد بھی کچھ لوگوں کا بے گھر اور بے روزگار رہنا بعض سرکاری پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے

اس کی وجہ بتاتے مظفر آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ زاہد امین نے کہا کہ تاجروں کے لیے ایک عمارت تعمیر ہو چکی ہے لیکن ابھی تک تاجروں کو اس کا قبضہ نہیں دیا جا سکا۔

’250 تاجروں کے لیے وہ پلازہ بنا تھا جن کا کاروبار زلزلے میں تباہ ہوا تھا لیکن ابھی تک وہ بیوروکریسی کے سرخ فیتے کی وجہ سے آباد نہیں ہو سکا ہے۔ فائلیں کشمیر حکومت سے پاکستان حکومت اور ایک دفتر سے دوسرے دفتر گھوم رہی ہیں لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا۔‘

35 لاکھ میں سے چند سو لوگوں کے مسائل اب بھی برقرار رہنا شاید بڑی بات نہیں۔ لیکن زلزلے کے دس سال اور اربوں روپے خرچ ہونے کے بعد بھی کچھ لوگوں کا بے گھر اور بے روزگار رہنا بعض سرکاری پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

اسی بارے میں