’را‘ کی سرگرمیاں‘، اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اجلاس میں ماضی قریب میں کراچی، بلوچستان اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ہونے والی شدت پسندی کے واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے کے بارے میں جمع کیے گئے ثبوت کا جائزہ لیا جائے گا

پاکستان کی وفاقی حکومت نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی پاکستان میں سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس اجلاس میں ماضی قریب میں کراچی، بلوچستان اور ملک کے دوسرے علاقوں میں ہونے والی شدت پسندی کے واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے ملوث ہونے کے بارے میں جمع کیے گئے ثبوت کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اجلاس وزیر اعظم کی سربراہی میں آئندہ ہفتے منعقد ہوگا جس میں سویلین اور فوجی خفیہ اداروں کے سربراہان کے علاوہ اعلیٰ فوجی اور سویلین حکام بھی شرکت کریں گے۔

اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بلوچستان اور سندھ میں ہونے والی شدت پسندی کی کارروائیوں کی تفتیش کی روشنی میں سامنے آنے والے ثبوتوں سے متعلق بھی غور کیا جائے گا۔

اہلکار کے مطابق ان ثبوتوں کی روشنی میں بھارتی خفیہ ادارے کی کارروائیوں کا موثر جواب دینے اور اس معاملے کو عالمی سطح پر اُٹھانے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جمعے کو آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران کہا تھا کہ ملک دشمن خفیہ اداروں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستانی حکومت بلوچستان صوبے میں بھارتی خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے بارے میں شواہد بھارتی حکومت کو بھی فراہم کرچکی ہے

اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں کی طرف سے وزارت داخلہ کو جو رپورٹ بھجوائی گئی ہے اس میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر دستخط کے بعد ’را‘ کی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی منصوبوں کے بعد شدت پسندی کی کارروائیوں کے بارے میں وزیر اعظم خود کہہ چکے ہیں کہ پاکستان دشمن قوتوں کو یہ منصوبے ہضم نہیں ہو رہے۔

پاکستانی حکومت بلوچستان صوبے میں بھارتی خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے بارے میں شواہد بھارتی حکومت کو بھی فراہم کرچکی ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے مطابق ملک بھر میں خفیہ اداروں کی نشاندہی پر دس ہزار سے زائد آپریشن کیےگئے جن میں ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا تاہم ابھی یہ بات سامنے نہیں آسکی ہے کہ اس میں کتنے ایسے افراد ہیں جو بھارتی خفیہ ایجنسی اور کالعدم تنظیموں کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں