’شوال میں دو دن میں دوسرا ڈرون حملہ، چار ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان میں گذشتہ 11 سالوں کے دوران ایک اندازے کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کی جانب سے چار سو کے قریب ڈرون حملے کیے گئے ہیں

پاکستانی حکام کے مطابق ملک کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے ایک حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ حملہ پیر کو پاک افغان سرحد کے قریب تحصیل شوال کے علاقے زوئے نارے میں کیا گیا۔

یہ شوال میں دو دن میں ہونے والا دوسرا ڈرون حملہ تھا جس میں پی ٹی وی کے مطابق ڈرون طیارے نے چار میزائلوں سے ایک مکان کو نشانہ بنایا۔

حملے میں مکان تباہ ہوگیا اور اس میں موجود کم از کم چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پیر کو ہی پاکستان نے ایک بار پھر یہ حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کی فوج دہشت گردوں کے خلاف ضربِ عضب میں مصروف ہے اور حکومت قبائلی علاقوں میں دوبارہ آباد کاری پر توجہ دے رہی ہے، ڈرون حملے مقامی آبادی میں عدم اعتماد کا باعث ہیں۔

شمالی وزیرستان میں گذشتہ سال جون میں پاکستان فوج کی طرف سے شدت پسند تنظیموں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس آپریشن کے نتیجے میں فوج کا دعویٰ ہے کہ ایجنسی کے 90 فیصد علاقے کو عسکری تنظیموں سے صاف کردیا گیا ہے تاہم دور افتادہ سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں بدستور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption پاکستان میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہو چکے ہیں

یہ بات بھی قابل ذکر ہےکہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے شروع ہونے کے بعد سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی تاہم وقفوں وقفوں سے حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

پاکستان میں گذشتہ 11 سالوں کے دوران ایک اندازے کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کی جانب سے چار سو کے قریب ڈرون حملے کیے گئے ہیں جس میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ مرنے والوں میں بیشتر شدت پسند بتائے جاتے ہیں۔

پاکستان امریکی ڈرون حملوں کو ملکی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ سے متعدد بار سفارتی سطح پر احتجاج کر چکا ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار قرار دیتا ہے۔

پاکستان میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج بھی کر چکی ہیں۔

گذشتہ ماہ اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے امریکی ڈرون حملوں میں ہلاکتوں سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران پولیس کے سربراہ کو حکم دیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے پاکستان میں سربراہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔

اسی بارے میں