’کراچی حملے کے ملزمان گرفتار، را سے تعلق کے شواہد‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حملے میں ’را‘ کے ملوث ہونے کے الزام لگائے جا رہے ہیں

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں اسماعیلی برداری کی بس پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

نوابشاھ میں پیپلز میڈیکل یونیورسٹی کے کانووکیشن کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملزمان نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے، تاہم انہوں نے ملزمان کی وابستگی ظاہر نہیں کی۔

جمعرات کو اسماعیلی برداری کی بس پر حملے کے نتیجے میں خواتین سمیت 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

گرفتار ملزمان کو تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جبکہ ایف آئی آر بھی سیل ہے۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ انہیں آئی جی پولیس غلام حیدر نے ملزمان کی گرفتاریوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے، اب تک کی جو نشانیاں یا علامات ملی ہیں اس سے تو یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ واقعے میں بھارتی ایجنسی را ملوث ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے پیر کو کراچی میں ڈی جی رینجرز کی بریفنگ کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعے کے ذمہ دار فوکس میں آچکے ہیں۔تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اصل حملہ آور تک پہنچ چکے ہیں۔

وفاقی وزیر نے صحافیوں کو مشورہ دیا کہ وہ جلدبازی نہ کریں اور انٹلی جنس اداروں کو وقت دیا جائے۔ اس معاملے میں اہم تفیتش کرنا ہوگی کیونکہ اس کے مختلف رخ ہیں صرف میڈیا کے ذریعے بیان دینا یا کوئی دعویٰ کرنا مناسب نہیں۔

چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ٹی ٹوئنٹی یا 50 اوور کا کرکٹ میچ نہیں ہے، سالہا سال اس پر توجہ نہیں دی گئی ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2011 اور 12 شدید ترین سال تھے جب ملک کے ہر علاقے میں دھماکے ہو رہے تھے، موجودہ حکومت نے پہلی بار کوشش کی کہ اس کا علاج ڈھونڈھا جائے۔

’جون 2014 سے اب تک 10 ہزار سے زائد آپریشن انٹلی جنس بنیادوں پر کیے گئے ہیں۔ جن میں 36 ہزار سے زائد گرفتاریاں ہوچکی ہیں، ان کارروایوں میں فوج کے علاوہ، ایف سی، پولیس اور دیگر سول ادارے شامل ہیں، اس عرصے میں کئی ممکنہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔

اسی بارے میں