لاپتہ پاکستانیوں کی تلاش کے لیے اسرائیل سے بالواسطہ رابطے

Image caption امورِ خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز نے گمشدہ پاکستانیوں کے مسئلے کو انسانی حقوق کا ایک سنگین مسئلہ قرار دیا

پاکستان کی حکومت 16 لاپتہ پاکستانی شہریوں کی تلاش میں امریکہ اور اردن کے سفارت خانوں کے ذریعے اسرائیل کی حکومت سے رابطے کر رہی ہے۔

منگل کو پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں خارجہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت نے پاکستان میں امریکی سفارت خانے ، واشنگٹن اور اردن میں پاکستانی سفارت خانوں کے علاوہ اقوام متحدہ سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ان 16 افراد کے بارے میں اسرائیل سے بات کریں ۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں امریکہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے اس بات کا جواب آگیا ہے کہ اسرائیلی حکام تک یہ بات پہنچا دی گئی ہے۔

تاہم اسرائیلی حکومت کی طرف سے ابھی تک اس سے متعلق جواب نہیں دیا گیا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کو اسرائیلی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی حالت کے بارے میں علم نہیں ہے کیونکہ اُن تک ابھی رسائی نہیں دی گئی اور نہ ہی یہ معلوم ہوسکا ہے کہ اُنھیں کن وجوہات کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں امریکہ، اقوام متحدہ اور پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ رابطوں میں ہیں اور جو بھی پیش رفت سامنے آئی اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

شاہی سید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے اپنے توجہ دلاؤ نوٹس میں کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل نمائندہ تو موجود ہے اس لیے اُن کے توسط سے یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اُٹھایا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیمیں اس معاملے کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں جو کہ اُن کے لیے حیران کن ہے۔

شاہی سید کا کہنا تھا کہ پانچ سال کے بعد ان 16 افراد کے ورثا میں اُمید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ لہذا اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ ان افراد کو وطن واپس لے کر آئے۔

یاد رہے کہ سنہ 2009 میں لبنان کے ساحل کے قریب جہاز ڈوب گیا تھا۔ جن میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں نکال لی گئیں تھیں جبکہ 16 افراد لاپتہ ہو گئے تھے۔ تاہم کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ یہ افراد اسرائیل کی جیل میں ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور پاکستان نے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔

اسی بارے میں