’ایگزیکٹ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں کمپنی کے دفتر کے باہر ذرائع ابلاغ جمع

سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو حکم جاری کیا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے خلاف جعلی ڈگریوں کے کاروبار کے الزامات کے بارے میں تحقیقات قانون کے مطابق کی جائیں۔

ایگزیکٹ کے ملازم امداد علی کی جانب سے دائر درخواست میں ایف آئی اے پر ہراساں کرنے اور کام سے روکنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے ملازمین کو صبح سے ہی کام کرنے سے روک دیا جبکہ ایگزیکٹ کے خلاف پاکستان میں کوئی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہے۔

درخواست میں عدالت سے گذارش کی گئی ہے کہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کی بنیاد پر ایگزیکٹ اور اس کے خلاف کارروائی سے روکا جائے، اور میڈیا گروپس کو بھی تاکید کی جائے جنہوں نے ان کے خلاف مہم چلائی ہوئی دراصل وہ ان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ سے خائف ہیں جس کا نام بول ہے۔

عدالت نے اس سلسلے میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اور وزرات نشریات کو 26 مئی کے لیے نوٹس بھی جاری کر دیے ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان کی جانب سے ایگزیکٹ کمپنی کے بارے میں تحقیقات کے حکم کے بعد ایف آئی اے نے منگل کی صبح راولپنڈی اور کراچی میں کمپنی کے دفاتر پر چھاپہ مار کر 20 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایگزیکٹ مبینہ طور پر جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں ملوث ہے۔

ایف آئی اے کے سائبر ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر طاہر تنویر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اُنھوں نے ایگزیکٹ کے دفتر پر چھاپہ مار کر کمپیوٹر اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ 20 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان افراد کو ابھی تک باقاعدہ گرفتار نہیں کیا گیا اور ان سے اس ضمن میں پوچھ گچھ جاری ہے اور اگر وہ قصور وار ثابت ہوئے تو اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

طاہر تنویر کا کہنا تھا کہ قبضے میں لیے گئے سامان کی تحقیقات مکمل کرنے میں 24 سے 48 گھنٹے درکار ہیں جس کے بعد ان سے متعلق قانونی کارروائی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

وزارتِ داخلہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق چودھری نثار علی خان نے اس معاملے پر تحقیقات کے بعد ایف آئی اے کو فوری رپورٹ پیش کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایگزیکٹ جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں ملوث ہے

ان تحقیقات میں اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ نیویارک ٹائمز کی خبر میں کتنی صداقت ہے اور کیا مذکورہ کمپنی کسی ایسے غیر قانونی کام میں ملوث ہے جس سے دنیا میں پاکستان کی نیک نامی پر حرف آ سکتا ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں بھی سافٹ ویئر کمپنی کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور کارپوریٹ اور سائبر کرائم سرکل کے تین افسران کی سربراہی میں ایک ٹیم نے منگل کو مرکزی دفتر کا دورہ کیا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر کامران عطااللہ نے کراچی میں میڈیا سے مختصر بات چیت میں بتایا کہ تفتیش اس وقت ابتدائی مرحلے میں اس لیے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی صرف ملازمین کا ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے پاکستان میں بیورو چیف ڈیکلن والش نے پیر کو ایگزیکٹ کے حوالے سے اخبار میں لکھا تھا جس میں کمپنی پر الزام لگایا گیا تھا کہ انٹرنیٹ پر امریکہ، کینیڈا، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں فروخت کرنے والی جعلی ڈگریوں سے ایگزیکٹ مبینہ طور لاکھوں ڈالر کما رہی ہے۔ خبر میں کمنپی کے سابق اہلکاروں اور متاثرین سے تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔

Image caption ایگزیکٹ کمپنی کے مالک شعیب احمد شیخ ایک نیا نجی چینل ’بول ٹی وی‘ بھی لانچ کرنے جا رہے ہیں

اس کے علاوہ نیویارک ٹائمز نے ایگزیکٹ کی ان مبینہ آن لائن یونیورسٹیوں اور کالجوں کی فہرست شائع کرتے ہوئے ان کا تکنیکی تجزیہ بھی پیش کر کے ان کا ایگزیکٹ سے مبینہ تعلق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

واضح رہے کہ ایگزیکٹ کمپنی کے مالک شعیب احمد شیخ ایک نیا نجی چینل ’بول ٹی وی‘ بھی لانچ کرنے جا رہے ہیں، جس میں ملک کے نامور صحافیوں اور اینکروں کو بھرتی کیا گیا ہے۔

اس خبر پر ایگزیکٹ نے کل نیویارک ٹائمز اور ڈیکلن والش کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا اور اپنی ویب سائٹ پر شائع بیان میں ان الزامات کو بے بنیاد، ہتک آمیز اور غیر معیاری قرار دیا۔

بیان کے مطابق ایگزیکٹ کے خلاف یہ مہم حریف میڈیا ادارے ایکسپریس اور جنگ گروپ گذشتہ دو برسوں سے چلا رہے ہیں کیونکہ ان اداروں کے چینل بول ٹی وی کی کامیابی سے ڈرتے ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ خبر یک طرفہ ہے اور ایگزیکٹ شمالی امریکہ سے باہر دنیا کی سب سے زیادہ روایتی اور آن لائن تعلیمی سہولیات فراہم کرتی ہے۔

ایگزیکٹ کی ویب سائٹ پر مزید کہا گیا ہے کہ’ایگزیکٹ کے دس کاروباری یونٹ بالکل جائز اور قانونی ہیں۔‘ اس کے علاوہ ایگزیکٹ نے بلاگ ’پاک ٹی ہاؤس‘ کو سوشل میڈیا پر نیو یارک ٹائمز کی اس خبر پر ردِ عمل شائع کرنے پر بھی قانونی کارروائی کا نوٹس جاری کیا ہے۔

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں بھی منگل کو اس پر بات چیت ہوئی اور سینیٹ کے سربراہ رضا ربانی نے ایوان کی کمیٹی کو اس پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ملتان میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایگزیکٹ کے بارے میں کہا کہ ’یہ کون ہیں، کیا کرتے ہیں اور ان کے کیا ارادے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم معاملہ ہے اور قومی اسمبلی میں اس پر بات ہونی چاہیے۔‘

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیرِ داخلہ کو بھی اس پر ایک مفصل بیان دینا چاہیے، اگر اس بارے میں کوئی معلومات ہیں تو قوم کو بتائیں اور اگر کوئی غلط فہمی ہے تو واپس لے لیں۔‘

اسی بارے میں