امام مسجد کو فرقہ وارانہ تقریر کرنے پر قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں فرقہ وارانہ تقریروں پر سزائیں دینے کی روایت زیادہ مضبوط نہیں ہے

پاکستان کے شہر لاہور کی ایک عدالت نے ایک امام مسجد کو جمعہ کی خطبے کے دوران فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

یہ سزا انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نمبر تین کے جج ہارون لطیف نے منگل کو سنائی۔

لاہور ہائی کورٹ کے پراسکیوٹر سعید احمد شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا ابو بکر کا تعلق لاہور کے نواحی علاقے کوٹ رادھاکشن سے ہے۔

پولیس کے مطابق امام مسجد نے ایک اجتماع کے دوران فرقہ وارنہ اور اشتعال انگیز تقریر کی جس پر مقامی پولیس نے مولانا ابوبکر کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ نو کے تحت مقدمہ درج کیا۔

سترہ فروری کو درج ہونے والا یہ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج ہوا تھا اور سب انسپکٹر کی درخواست مقدمہ درج کیا گیا اور انسپکٹر عہدے کے پولیس افسر نے اس مقدمہ کی تفتیش کی۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ اس سے قبل بھی انسداد دہشت گردی کے قانون کی دفعہ 11E کے تحت کئی بار جرمانہ ہوا ہے اور نفرت انگیز تقریر کرنے کے ایک مقدمے میں قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران انسداد دہشت گردی کی قومی لائحہ عمل کے تحت اشتعال انگیز تقاریر کرنے اور مواد برآمد ہونے پر چھ امام مسجد یا خطیبوں کو سزائیں سنائی ہیں۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ ’عموما اس نوعیت کے مقدمات میں ثبوت اور شوائد کمزور ہوتے ہیں اور ایف آئی ار بھی اُس نوعیت کی نہیں ہوتی ہے۔‘

سرکاری وکیل سعید احمد شیخ نے بتایا کہ ’ پنجاب حکومت کاؤنٹر ٹیرریزیم ڈیپارٹمنٹ اب ایف آئی ار کی بھی مانیٹرنگ کرتا ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ اس نوعیت کے مقدمات کی ’کیس ٹو کیس مانٹیرنگ‘ کی جا رہی ہے۔

امام مسجد ابوبکر نے اپنے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور ان کے وکیل نے مقدمہ خارج کرنے اور امام مسجد کو بری کرنے کی استدعا کی۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف اجتماع میں فرقہ وارنہ اور اشتعال انگیز تقریر کرنے کے ٹھوس ثبوت ہیں اور اس سلسلہ میں عدالت میں گواہ بھی پیش کیے گئے۔

انھوں نے کہا کہ ملزم ابوبکر نے جس طرح کی اشتعال انگیز تقریر کی ہے وہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ نو کے تحت قابل دست اندازی جرم ہے۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ نو کے تحت کسی ملزم کو جرم ثابت ہونے پر پانچ سال قید اور جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں سنائی جا سکتی ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے مقدمہ پر ڈھائی ماہ سماعت کی جس کے دوران تمام ریکارڈ کا جائزہ لینے اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں جرم ثابت ہونے پر امام مسجد کو پانچ سال قید کی سزا سنائی۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عملدارمدار کے لیے عدالتیں متحرک ہیں اور پولیس اور سرکاری وکلا پر کافی دباؤ ہے کہ وہ جلد تحقیقات مکمل کر کے کے مقدمات کو منطقعی انجام تک پہنچائیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ آئندہ سات روز تک دائر کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں