’اسماعیلیوں کی بس اور سبین محمود پر حملے کے منصوبہ ساز گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سماجی کارکن سبین محمود کا قتل 24 اپریل کو کراچی میں ہوا تھا

پاکستان کے صوبے سندھ کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں گرفتار کیے گئے ملزمان سماجی کارکن سبین محمود کے قتل میں بھی ملوث ہیں۔

یہ بات وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بدھ کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔

اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں 47 افراد کی ہلاکت کا واقعہ رواں ماہ ہی صفورا چورنگی کے علاقے میں پیش آیا تھا جبکہ سبین محمود کو گذشتہ ماہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے علاقے میں ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا تھا۔

وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ مجرموں کا یہ گروہ 15 سے 20 افراد پر مشتمل ہے جن میں سے چار کو گرفتار کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان میں طاہر حسین منہاس عرف سائیں عرف نذیر عرف زاہد، سعد عزیز عرف ٹن ٹن عرف جون، محمد اظہر عشرت عرف ماجد اور حافظ ناصر حسین عرف یاسر شامل ہیں۔

ان ملزمان میں سے طاہر حسین کو اسماعیلیوں کی بس پر حملے اور سعد عزیز کو سبین محمود کے قتل کا منصوبہ ساز قرار دیا گیا ہے۔

قائم علی شاہ نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے ملزمان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ان میں انجینیئر اور کراچی یونیورسٹی کے طالب علم بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سبین محمود کے قتل کا ماسٹر مائنڈ سعد عزیز ایک نجی یونیورسٹی سے الیکٹرونکس انجینیئرنگ کر چکا ہے۔

تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعد عزیز کراچی یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کا فارغ التحصیل ہے جبکہ اس کا ساتھی محمد اظہر عشرت نامی ملزم الیکٹرونکس انجینیئر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں 45 افراد کی ہلاکت کا واقعہ رواں ماہ ہی صفورا چورنگی کے علاقے میں پیش آیا تھا

اس کے علاوہ ایک اور ملزم حافظ ناصر حسین نے بھی کراچی یونیورسٹی سے ہی ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مذکورہ دو کارروائیوں کے علاوہ یہ گروہ امریکی شہری ڈیبرا لوبو، نیوی افسر پر بم حملے، رینجرز کے بریگیڈیئر باسط پر خودکش حملے، بوہری جماعت خانے کے باہر بم دھماکے سمیت پولیس افسران کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ملزمان سے پولیس نے تین کلاشنکوف، سات نائن ایم ایم پستول، پانچ دستی بم، دھماکہ خیز مواد اور لٹریچر برآمد کیا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ہی اسلحہ بس حملے میں بھی استعمال کیا گیا۔

صوبائی حکومت نے چاروں ملزمان سے تفتیش کے لیے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم کی تشکیل کا بھی اعلان کیا جو ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرے گی۔

سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ کے بعد ملزمان کی وابستگی ظاہر کی جائےگی۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ملوث ہونے کے بیان پر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے لے کر یہاں تک ’را‘ کی سرگرمی تو رہی ہے، یہاں کئی گھناؤنے واقعات ہوچکے ہیں تاہم انھوں نے حتمی طور نہیں کہا تھا کہ اس واقعے میں ’را‘ ملوث ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے ملزمان کو گرفتار کرنے والی پولیس ٹیم کے لیے پانچ کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا اور کہا کہ ان اہلکاروں کی ترقی پر بھی غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان میں ایک اہم ملزم بھی شامل ہے، جس کی اداروں کی طویل عرصے سے تلاش تھی تاہم انھوں نے اس کا نام ظاہر نہیں کیا۔

اسی بارے میں