’پاکستان کے جوہری ہتھیار صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ mofa
Image caption دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں استحکام کے لیے خفیہ معلومات کے تبادلے سمیت ہر معاملے میں تعاون کر رہا ہے

پاکستان کا کہنا ہے کہ اُس کے جوہری ہتھیار کسی دوسرے ملک کو برآمد کرنے کے لیے نہیں اور پاکستان کے جوہری ہتھیار صرف اور صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں سعودی عرب کی پاکستان سے جوہری ہتھیار لینے کی خواہش کے بارے میں اخباری اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار دفاعی مقاصد کے لیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کوئی جوہری معاہدہ نہیں ہے۔

ترجمان قاضی خلیل نے کہا کہ ’ایک جوہری ریاست کے طور پر پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔‘

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر بے بنیاد ہے۔

17 مئی کو سنڈے ٹائمز میں ایک خبر شائع ہوتی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے پاکستان سے جوہری ہتھیار لینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

سعودی جوہری ہتھیار حاصل کر لیں گے (سنڈے ٹائمز)

’پاکستانی جوہری ہتھیار سعودی عرب کو فراہمی کے لیے تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنڈے ٹائمز میں ایک خبر شائع ہوتی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب نے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے پاکستان سے جوہری ہتھیار لینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا جوہری نظام انتہائی محفوظ ہاتھوں میں ہے اور پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کی حمایت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری سے تعاون کرنا چاہتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں استحکام کے لیے خفیہ معلومات کے تبادلے سمیت ہر معاملے میں تعاون کر رہا ہے۔

انھوں نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور افغان انٹیلجنس ایجنسی این ڈی ایس کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے معاہدے کی تصدیق کی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت سمیت دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

یمن میں جاری لڑائی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان یمن کے معاملے پر سعودی عرب سے رابطے میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ 15 ہزار پاکستانی یمن میں موجود ہیں اور حکومت نے سعودی حکام سے پاکستانیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

پاکستانی کمپنی پر جعلی ڈگریاں فروخت کرنے کے الزام کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ امریکہ سمیت کسی بھی دوسرے ملک نےاس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار نہیں کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سکینڈل پر تحقیقات ہو رہی ہیں۔

اس سے پہلے 2013 میں بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کے جوہری پروگرام میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور بوقت ضرورت وہ پاکستان سے تیار جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں