’واہگہ حملے کے ملزمان سمیت چھ طالبان شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی پولیس نے رواں برس کئی مقابلوں میں متعدد طالبان شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے کیے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس نے دو مقابلوں میں چھ مشتبہ طالبان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کے مطابق بلدیہ ٹاؤن اور منگھو پیر کے علاقے میں جمعرات کی شب ہونے والے ان مقابلوں میں تین اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پولیس کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی یعنی سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ خفیہ اداروں کی نشاندہی پر پولیس نے جمعرات کی شب بلدیہ ٹاؤن میں چھاپہ مارا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر جائے وقوعہ پر موجود شدت پسندوں نے مزاحمت کی اور فائرنگ کے تبادلے میں چار شدت پسند ہلاک اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔

ڈی ایس پی علی رضا نے ہلاک شدگان کی شناخت تو نہیں بتائی تاہم دعویٰ کیا کہ ان مبینہ پسندوں کا تعلق طالبان کے عمر خراسانی گروپ سے تھا اور وہ واہگہ بارڈر پر دھماکے میں ملوث تھے اور حال ہی میں کراچی آئے تھے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں واہگہ بارڈر پر ایک خودکش بم دھماکے میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کی تھی۔ یہ تنظیم قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سرگرم ہے۔

ڈی ایس پی علی رضا نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شدت پسند کراچی پولیس کے ایس ایس پی راؤ انوار اور سکول کی ویگن پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

دوسری جانب منگھو پیر کے علاقے میر محمد گوٹھ میں پولیس مقابلے میں دو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایس ایس پی اظفر مہیسر کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے تھا اور وہ پولیس اہلکاروں کے قتل کے علاوہ بھتہ خوری میں ملوث تھے۔

ایس ایس پی کے مطابق مقابلے کے دوران دو شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جنہیں ہپستال پہنچایا گیا ہے۔

پولیس نے شدت پسندوں سے دو دستی بم، ایک کلاشنکوف اور ایک نائن ایم ایم پستول برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کراچی میں جاری آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور رینجرز اور پولیس شہر کے مختلف علاقوں اور مضافات میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شدت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کے ارکان کے خلاف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں