ماڈل ٹاؤن سانحہ: ’شہباز شریف بےگناہ‘، عوامی تحریک کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ برس 17 جون کو پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا تھا جس میں عوامی تحریک کے 11 کارکن ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے

پاکستان عوامی تحریک نے ماڈل ٹاؤن میں پولیس فائرنگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جے آئی ٹی کی رپورٹ پر ہنگامہ آرائی ہوئی اور حزب اختلاف نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

پنجاب حکومت نے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی فائرنگ سے عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی تھی اور اس کی رپورٹ بدھ کے روز سامنے آئی۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ خان کو بے گناہ قرار دے دیا اور کہا کہ چھان بین کے دوران یہ ثابت نہیں ہوا کہ وزیر اعلیٰ اور سابق صوبائی وزیر قانون فائرنگ کا حکم دینے والوں میں شامل ہیں۔

گذشتہ برس 17 جون کو پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا تھا جس میں عوامی تحریک کے 11 کارکن ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اس واقعہ کی عدالتی تحقیقات بھی کرائی گئیں اور یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کے روبرو زیر سماعت ہے کہ عدالتی تحقیقات کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عوامی تحریک کے رہنما رحیق عباسی نے الزام لگایا کہ جی آئی ٹی حکمرانوں اور پولیس افسروں کو فرار کا راستہ دینے کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس واقعے کی چھان بین میں سنجیدہ ہوتی تو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو سال بھر کیوں چھپا کر رکھتی۔

عوامی تحریک جے آئی ٹی اور جوڈیشل انکوائری میں شامل نہیں ہوئی تھی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رحیق عباسی نے کہا کہ ہم جی آئی ٹی رپورٹ میں حکمرانوں کو کلین چٹ دینے کے خلاف احتجاج کریں گے اور بے گناہوں کے خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں پولیس آفیسر یعنی ایس پی سکیورٹی علی سلمان سمیت دس پولیس اہلکاروں کو فائرنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور سابق ایس پی سکیورٹی بیرون ملک ہیں۔ رپورٹ میں عوامی تحریک کے 42 کارکنوں کو بھی پولیس پر حملہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

عوامی تحریک کے رہنما رحیق عباسی کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے ایک ایسے پولیس آفیسر کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جسے حکومت پہلے بیرون ملک بھجوا چکی ہے اور اس کی ملک واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ذمہ دار پولیس افسر کی عدم موجودگی سے اس معاملے میں کیا پیش رفت ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ خان کو بے گناہ قرار دے دیا

رحیق عباسی نے کہا کہ انھیں انسداد دہشت گردی کے عدالت سے انصاف کی توقع ہیں ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ماڈل ٹاون میں ہونے والی ہلاکتوں کے مقدمہ کی سماعت فوجی عدالت میں ہو۔

دوسری جانب جعمرات کو پنجاب اسمبلی میں حزب اختلاف نے ماڈل ٹاون کے واقعے کے بارے میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر احتجاج کیا اور ’گو نواز گو‘ کے نعرے لگائے۔ جس کے جواب میں حکومتی ارکان نے ’رو عمران رو کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ اپوزیشن اور حکومتی ارکان اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔

پنجاب اسمبلی میں قائد حزب مخالف اور تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید نے جے آئی ٹی نکتہ چینی کی اور کہا کہ یہ ظلم ہے اور پاکستان کی تاریخ کاسیاہ دن ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے جو وعدہ کیا تھا اس کے مطابق استعفیٰ نہیں دیا۔

اسی بارے میں