امامیہ مسجد پشاور پر حملے کے ملزمان کا اعترافِ جرم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حیات آباد میں امامیہ مسجد پر رواں برس 13 فروری کو اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب لوگ نمازِ جمعہ ادا کر رہے تھے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کے مطابق امامیہ مسجد حیات آباد پر حملے کے الزام میں گرفتار دو ملزمان نے عدالت کے سامنے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔

ملزمان نے عدالت کو بتایا ہے کہ انھوں نے اس حملے کی منصوبہ بندی کیسے اور کہاں کی تھی۔

انسدادِ دہشت گردی محکمے کے مطابق دونوں ملزمان کو جمعے کو مقامی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جہاں انھوں نے تسلیم کیا کہ حیات آباد کی امامیہ مسجد پر خود کش حملے کے لیے انھوں نے معاونت کی تھی۔

انسدادِ دہشتِ گردی محکمے کے حکام نے بتایا کہ ملزمان ریاض اللہ اور امان اللہ کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔

حیات آباد میں امامیہ مسجد پر رواں برس 13 فروری کو اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب لوگ نمازِ جمعہ ادا کر رہے تھے۔ اس حملے میں 25 افراد ہلاک اور 59 زخمی ہو گئے تھے۔

انسدادِ دہشت گردی محکمے نے اس حملے کے بعد چھ افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں سے دو کو جمعے کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے جنھوں نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔

حکام نے بتایا کہ ان افراد کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے ہے اور انھوں نے حملے میں ملوث افراد کو اسلحہ فراہم کرنے اور انھیں جائے واردات تک پہنچانے کے لیے تمام اقدامات کیے تھے۔

حکام نے بتایا کہ ملزمان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ کس راستے سے حیات آباد پہنچے، گاڑیوں کا انتظام کیسے کیا، اور حملے سے پہلے وہ کہاں ٹھہرے تھے۔

حیات آْباد کی امامیہ مسجد حیات آباد فیز فائیو میں بڑے نجی ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کے ساتھ واقع ہے۔

13 فروری کو تین سے چار حملہ آوروں نے امامیہ مسجد کے عقبی راستے سے داخل ہو کر پہلے بموں کے دھماکے کیے، فائرنگ کی اور پھر خود کو دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ حملہ پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کے دو ماہ بعد کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق اس حملے کا طریقہ بھی وہی تھا جو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے لیے اختیار کیا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے سے پہلے مسجد کے باہر گاڑی کو آگ لگا دی گئی تھی جس سے لوگوں کی توجہ گاڑی کی جانب مبذول ہوئی جس کے بعد حملہ آوروں نے مختلف سمت سے فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے۔

حیات آباد مسجد پر حملے میں ملوث گروہ اس سے پہلے بھی پشاور اور دیگر علاقوں میں بھی کارروائیاں کر چکا ہے ان میں پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس پر کیے جانے والے حملہ بھی شامل ہے۔

انسدادِ دہشت گردی محکمے نےرواں برس مارچ میں میں اہم گرفتاریاں کی تھیں جن میں ایک شخص کو پشاور کے مضافاتی علاقے چمکنی سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد تفتیشی اہل کار ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں