’ایگزیکٹ کیس میں ایف بی آئی اور انٹرپول سے رابطےکریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹ کیس میں قانونی مدد کے لیے ایک سے دو روز میں امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور انٹرپول سے رابطہ کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ حکومت آئندہ ایک سے دو روز میں قانونی معاونت کے لیے ایف بی آئی کو خط لکھے گی۔ جبکہ ایگزیکٹ کیس میں سامنے میں آنے والی یونیورسٹیوں کی تفصیلات کے حوالے سے انٹرپول سے رابطہ کیا جائے گا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ برطانوی اداروں سے مدد لینے کے بارے میں بھی آئندہ تین دنوں میں فیصلہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایگزیکٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے یا نہیں اس کا فیصلہ سات سے دس روز میں ایف آئی اے کی ابتدائی تفتیش کے بعد کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایف آئی اے کی تفتیش کا دورانیہ عام طور پر 90 دن کا ہوتا ہے لیکن چونکہ یہ کیس انتہائی حساس مرحلے میں ہے لہذا ابتدائی تفتیش کو سات سے دس روز میں ختم کر لیا جائے گا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ اگر ایکزیگٹ کے خلاف فوری کارروائی نہ کی جاتی تو بہت سا ریکارڈ ضائع ہو جاتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک خبر میں پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا تھا، جس پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم جاری کیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کے پاکستان میں بیورو چیف ڈیکلن والش نے گذشتہ پیر کوایگزیکٹ کمپنی پر الزام لگایا تھا کہ وہ انٹرنیٹ پر امریکہ، کینیڈا، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں کرنے والی جعلی ڈگریاں فروخت کر کے ایگزیکٹ لاکھوں ڈالر کما رہی ہے۔ خبر میں کمپنی کے سابق اہلکاروں اور متاثرین سے تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔

اسی بارے میں