باجوڑ ایجنسی میں حملہ، ایک ایف سی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیٹیکل اہلکار کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کاروائی کی تاہم اس دوران شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوئے

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سرحد پارسے سکیورٹی فورسز پر ہونے والے شدت پسندوں کے ایک حملے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے ایک پولیٹکل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق 9 بجے پاک افغان سرحدی علاقے غاخی پاس میں ہوا۔

پولیٹکل اہلکار نے کہا کہ پاک افغان سرحدی علاقے سے درجنوں شدت پسندوں نے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی حفاظتی چوکیوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔ انھوں نے کہا کہ حملے میں فرنٹیر کور کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔

اہلکار کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کاروائی کی تاہم اس دوران شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔

خیال رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں سرحد پار سے پہلے بھی شدت پسندوں کی طرف سے حملے ہوتے رہے ہیں جس میں کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان حملوں میں ایک وقت میں اتنا اضافہ ہوا تھا کہ اس کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے۔

پاکستان نے کئی مرتبہ اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے سرحد پار سے ہونے والے حملوں پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً طالبان تنظمیں قبول کرتی رہی ہے۔

تاہم افغانستان میں صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے سرحد پار سے حملوں میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے موجودہ حکمران دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کےلیے ہر ممکن تعاون کررہے ہیں۔

اسی بارے میں