مارک سیگل کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کروانے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بے نظیر بھٹو نے اپنے آخری ایام میں امریکی شہری مارک سیگل کو ای میل اور خطوط کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ انھیں پرویز مشرف سے جان کا خطرہ ہے

پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے وزارت داخلہ اور راولپنڈی کی انتظامیہ کو امریکی شہری مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا ہے ۔

عدالت نے کہا ہے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کے انتظامات مکمل کیے جائیں۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے یہ حکم استغاثہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر دیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے کے اہم گواہ مارک سیگل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان نہیں آ رہے اس لیے ان کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کر لیا جائے۔

بےنظیر قتل مقدمے میں مارک سیگل طلب

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ایوب مارتھ نے بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں کی۔ راولپنڈی کی انتظامیہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس ضمن میں انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

جس کے مطابق امریکی شہری کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کمشنر آفس میں انتظامات کیے گئے ہیں اور اس مقدمے کی آنندہ سماعت کمشنر آفس میں ہو سکتی ہے۔

عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں پاکستان میں امریکی سفارت خانے سے رابطہ کرے اور سفارت خانے کا ایک اہلکار اس وقت کمرہ عدالت میں موجود ہو، جس وقت مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا ہو۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ اس بارے میں امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کے ساتھ بھی رابطہ کرے اور اُسے اس ضمن میں ممکنہ اقدامات کرنے کے ہدایت کرے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے اپنے آخری ایام میں امریکی شہری مارک سیگل کو ای میل اور خطوط لکھے تھے جن میں کہا تھا کہ کہ اُنھیں (بےنظیر بھٹو) اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف سے جان کا خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ پرویز مشرف بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ملزم ہیں اور ان پر فرد جرم بھی عائد ہو چکی ہے، تاہم اُنھوں نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP PHOTO AAMIR QURESHI
Image caption سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو دسمبر 2007 میں انتخابات سے قبل ایک جلسے سے خطاب کے بعد خودکش حملے میں ہلاک ہو گئی تھیں

سابق فوجی صدر پرویز مشرف اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں جبکہ اس مقدمے میں پانچ ملزمان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہیں۔

قانونی ماہرین مارک سیگل کے بیان پر راضی ہونے کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اُن کے بیان کی روشنی میں اس قتل میں پرویز مشرف کے کردار پر روشنی پڑے گی۔

اسی بارے میں