مہمند ایجنسی: فائرنگ اور دھماکوں میں ایک شخص ہلاک سات زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس واقعے کے بعد سکیورٹی اہلکار جائے واردات کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں دو دھماکے ہوئے

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کے مطابق فائرنگ اور چار دھماکوں میں ایک شخص ہلاک اور دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت سات افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ رات گئے تحصیل حلیم زئی کےعلاقے دربہ خیل میں نامعلوم افراد نے حاجی بغداد شاہ کے مکان پر شدید فائرنگ کی جس میں حاجی بغداد شاہ کے بھانجے جمیل ہلاک ہو گئے۔

اہلکاروں نے بتایا کہ حملے کے بعد حاجی بغداد شاہ کے مکان سے جوابی کارروائی کی گئی لیکن دوسری جانب سے کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اس واقعے کے بعد سکیورٹی اہلکار جائے واردات کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں دو دھماکے ہوئے۔ یہ دھماکے ریموٹ کنٹرول سے کیے گئے۔

دھماکوں میں دو سکیورٹی اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں میں ایک کیپٹن اور ایک صوبیدار شامل ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان دھماکوں کے وقت سابق سینیٹر کی گاڑی بھی ادھر سے گزر رہی تھی لیکن اہلکاروں کے مطابق ان کی گاڑی پر براہ راست کوئی حملہ نہیں ہوا۔

پولیٹیکل انتطامیہ کے مطابق حاجی بغداد شاہ کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، تاہم کچھ عرصے سے انھیں دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔

انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی شدت پسندوں کی ہو سکتی ہے تاہم اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں زیارت کے مقام پر امن کمیٹی کے سابق سربراہ کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ اس کے بعد اسی مقام پر دوسرا دھماکہ بھی ہوا، ان دھماکوں میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

زخمی ہونے والے پانچوں افراد کا تعلق سابق امن کمیٹی سے تھا۔

مہمند ایجنسی اور باجوڑ ایجنسی میں امن کمیٹی کے افراد پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں چند ایک شہروں اور دیہاتوں میں شدت پسندوں کے حملوں کو روکنے کے لیے امن کمیٹیاں اورامن لشکر قائم کیے گئے تھے۔

بیشتر علاقوں میں اب یہ امن کمیٹیاں اور لشکر ختم کر دیےگئے ہیں لیکن ان افراد پر حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

سوات میں گذشتہ برس بڑی تعداد میں امن کمیٹیوں کے رضاکاروں پر حملے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں