’ملیر چھاؤنی پر حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیاگیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رینجرز نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد ملیر چھاؤنی پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے

کراچی میں رینجرز نے سات مشتبہ دہشت گردوں کو مبینہ مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں سے دو خودکش جیکٹیں پھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔

رینجرز نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد ملیر چھاؤنی پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

رینجرز کے بریگیڈیئر خرم نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پہلی کارروائی میں رینجرز نے رات گئے مومن آباد میں ایک گھر میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا۔

اس دوران دہشت گردوں نے رینجرز پر فائرنگ کی اور دستی بم پھینکے، جب رینجرز کی کارروائی جاری رہی تو دہشت گردوں نے گھر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں تین دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جب کہ ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

رینجرز نے گھر سے دو ایوون بم، تین رائفلیں، تین پستول، پانچ آئی ای ڈیز، دس کلو گرام دھماکہ خیزمواد اور خودکش جیکٹیں برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

ایک اور کارروائی میں مومن آباد میں صبح سویرے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا۔ فائرنگ میں ایک جوان زخمی ہو گیا اور جوابی کارروائی میں تین دہشت گرد ہلاک ہوگئے جن میں سے ایک نے خودکش جیکٹ پہنی ہوئی تھی۔

رینجرز نے دو ایس ایم جیز، سات رپیٹر، تین راکٹ، چھ خودکش جیکٹیں، 60 کلو گرام بارود، تین تیار آئی اے ڈیز، 37 موبائل فونز اور پانچ کلو گرام بال بیئرنگ بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حکام کے مطابق اس کارروائی کے دوران ایک بچے فہد مرزا کو بازیاب کرایا گیا جسے چھ مئی کے دن اغوا کیا گیا تھا۔

رینجرز ترجمان کے مطابق ہلاک اور گرفتار شدت پسندوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے ہے۔

ان کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں سے 107 راکٹ برآمد ہوئے ہیں جس سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ ملزم ملیر چھاؤنی پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ 107 راکٹ کی رینج تقریباً ساڑھے آٹھ کلومیٹر ہے۔

ماہرین کے مطابق افغان طالبان یہ راکٹ اتحادی افواج پر حملوں کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔