’دھوپ لگتی تھی تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صحرائے چولستان سے اُٹھنے والی ’ایکسکیوز می سر‘ کی ایک آواز پانچ ہزار بچوں کو درختوں کے نیچے سے اُٹھا کر کمروں میں لا رہی ہے۔ سورج کی تپش کے ساتھ اِن بچوں کی آنکھ مچولی ختم ہونے جا رہی ہے اور علاقائی تاریخ میں پہلی دفعہ چولستان کے بچوں کو اپنے گاؤں میں اپنے سکول مل رہے ہیں۔

یہ آواز مصباح شاہین کی ہے۔ تقریباً ایک سال پہلے تعمیر ہونے والے اپنے پختہ سکول کے برآمدے کے سائے میں بیٹھ کر بیتے دنوں کو یاد کرتی ہیں۔

’چھاؤں جس طرف جاتی تھی، ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے جاتے تھے۔ وہاں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ ایک ہی کمرہ تھا۔ ایک درخت تھا۔ اُس کے نیچے ہم پڑھتے تھے۔ دھوپ لگتی تھی تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے کہ کیسے پڑھیں۔‘

Image caption تقریباً چھ سال پہلے بچیوں کے اپنے گاؤں میں اپنے پرائمری سکول کا غیر رسمی منصوبہ شروع ہوا تو بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان میں چولستان کے قریبی دیہات میں مقامی لوگوں نے سکولوں کی جگہیں وقف کیں۔

تب مصباح پانچویں جماعت میں تھیں۔ انھیں ڈاکٹر بننا ہے، اس لیے سکول آنا پڑتا تھا۔

’ایک دفعہ کسی نے کہہ دیا کہ سکول بند ہو رہے ہیں۔ ہمارے دل میں تو رونا ہی آ گیا کہ کیسے پڑھیں گے؟ کیا بنیں گے؟‘

مصباح کا سکول دراصل ایک غیر رسمی منصوبے کا حصہ تھا۔ اِس منصوبے سے پہلے چولستانی بچوں کو تعلیم شروع کرنے کے لیے بڑے قصبوں یا شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ جو والدین اتنی تکلیف جھیل لیتے تھے ان کے بچے چار جماعتیں پڑھ جاتے تھے البتہ بچیوں کو اِس قدر دور پڑھانے کے لیے لے جانے یا بھیجنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا۔

تقریباً چھ سال پہلے بچیوں کے اپنے گاؤں میں اپنے پرائمری سکول کا غیر رسمی منصوبہ شروع ہوا تو بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان میں چولستان کے قریبی دیہات میں مقامی لوگوں نے سکولوں کی جگہیں وقف کر دیں۔

چولستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے دور دراز کے گاؤں سے آ کر پڑھانے والی استانیوں کی تنخواہوں کی ذمہ داری سنبھالی۔ لیکن یہ منصوبہ بھی سنہ 2014 میں ختم ہو رہا تھا جب مصباح چھٹی جماعت میں جانے والی تھیں۔

غیر رسمی پرائمری سکولوں کے بچوں نے اپنے سکول بچانے کے لیے بہاولپور شہر میں علامتی سکول لگائے، سرکاری افسران کو خطوط بھیجے۔ شہر کی مرکزی سڑک پر چولستان کے دیہاتی بچوں کے علامتی سکول کو پولیس نے ختم کرا دیا۔ میڈیا کے نمائندے فلم بندی تو کرتے رہے لیکن بچے شہ سُرخیوں میں نہ آئے۔ ایسا کوئی اعلان سننے کو ملا نہ کوئی عمل دیکھنے میں آیا جس سے بچوں کو لگے کہ ان کے سکول بند نہیں ہوں گے۔

بچوں اور انتظامیہ کی کشمکش کے دنوں میں ضلعی رابطہ افسر عمران سکندر مصباح کے سکول کا معائنہ کرنے آئے۔ ایک درخت اور کچے کمرے میں 100 کے قریب بچوں کو پڑھاتی اُستانیوں والے سکول کا دورہ کرکے لوٹنے لگے تو پیچھے سے ’ایکسکیوزمی سر‘ کی آواز آئی۔

عمران سکندر بڑے نرم لہجے میں اس آواز کو یاد کرتے ہیں۔

’میں بھی تھوڑا سا ٹھٹکا کہ انگریزی میں آواز آئی ہے۔ وہ بچی کھڑی ہو گئی اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مجھے کہا کہ ’’کیا چولستان کے بچوں کے لیے سکول نہیں ہو سکتا؟ کیا چولستان کے بچے بچے نہیں ہوتے؟‘‘ میرے خیال میں اُس نے بڑی ہمت اور خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا۔‘

Image caption ضلعی انتظامیہ اور چولستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے ہنگامی بنیادوں پر مصباح کے گاؤں کے لیے پختہ سکول تعمیر کرنے کی رقم کا بندوبست کیا

ضلعی انتظامیہ اور چولستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے ہنگامی بنیادوں پر مصباح کے گاؤں کے لیے پختہ سکول تعمیر کرنے کی رقم کا بندوبست کیا۔ چونکہ وہ پانچویں جماعت پاس کرنے والی تھیں اِس لیے جب تک عمارت مکمل ہوئی تو چار دیواری، چار کمروں، طویل برآمدے، دو ٹائلٹ، پینے کے پانی کے نلکے اور صبح کی اسمبلی کے لیے سٹیج پر مبنی اِس سکول کو مڈل سکول کا درجہ بھی دے دیا گیا تاکہ مصباح اپنے گاؤں کے اپنے سکول میں ہی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

’اُس بچی نے ہمیں بہت متاثر کیا۔ اُس کی کہانی میں نے ہر فورم پر بتائی۔ ہر کوئی متاثر ہوا۔ اِس وجہ سے ہمیں اِس کی منصوبہ بندی اور منظوری میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔‘

بات مصباح کے گاؤں تک نہیں رُکی۔ گذشتہ ایک سال میں مزید پانچ سکول بنے اور چولستان کے قریب 75 دیہات کے لیے دو یا تین کمروں والے پختہ سکولوں کی عمارتیں منظور ہوئیں جن کی تعمیر موسمِ گرما کی تعطیلات سے پہلے مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

عمران سکندر کے مطابق چولستان کے اِن سکولوں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی سرپرستی مل گئی ہے جس کا مطلب ہے کہ اِنھیں پہلی دفعہ طلبہ کی حیثیت سے سرکاری اعداد و شمار میں گنا جا رہا ہے اور اِن کے مستقبل کے متعلق منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

Image caption ایک دفعہ کسی نے کہہ دیا کہ سکول بند ہو رہے ہیں۔ ہمارے دل میں تو رونا ہی آ گیا کہ کیسے پڑھیں گے؟ مصباح شاہین

منصوبے کے تحت جس سکول کے بچے پرائمری سے آگے بڑھیں گے، اُسے مڈل کا درجہ اور مزید سہولتیں ملتی جائیں گی۔

تین اضلاع میں زیرِتعمیر عمارتوں کو دیکھ کر نسبتاً زیادہ والدین نے بچوں کو سکول بھیجنا شروع کر دیا ہے اور ایک سال میں مجموعی تعداد 20 فیصد بڑھ کر پانچ ہزار ہو گئی ہے۔

لڑکیوں کے لیے نئے سکول بن رہے ہیں لیکن اُن کی تعداد 65 فیصد ہے۔ باقی سب لڑکے ہیں اور انھیں اِس لیے نہیں روکا جاتا کیونکہ ان کے لیے قریب کوئی سکول نہیں۔

75 سکولوں کے بچوں میں ساتویں جماعت کی واحد طالبہ مصباح شاہین ہیں۔ سب فی الحال اُن سے پیچھے ہیں اور سرکاری افسران انھیں ’ملالۂ چولستان‘ کہتے ہیں۔

ایک سال میں اُن کے سکول کے بچوں کی تعداد دُگنی ہو گئی ہے۔ درخت کے سہارے بچوں کی سورج کے ساتھ آنکھ مچولی تو ختم ہو رہی ہے لیکن نئے سہارے کی گنجائش بھی کم پڑنے لگی ہے۔

ضلعی رابطہ افسر عمران سکندر کے بقول ’ہمارا اندازہ ہے کہ چولستان کے 15 سے 20 ہزار بچے اب بھی سکولوں سے باہر ہیں۔‘

اسی بارے میں