’طالبان کی پناہ گاہیں ختم کر دیں تو اعتماد بڑھے گا‘

Image caption دونوں ممالک نے جو قربانیاں دی ہیں وہ ضائع نہیں ہونی چاہییں: افغان نائب وزیرخارجہ

افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی نے کہا ہے کہ اگر پاکستان طالبان کی پناہ گاہیں کو ختم کر دے تو افغانستان کا اس پر اعتماد اور بھی بڑھ جائے گا۔

اسلام آباد میں بی بی سی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے افغان نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ رواں ماہ جب میاں نواز شریف افغانستان آئے تو ان کی باتوں سے افغان بہت خوش ہوئے تھے۔ انھوں نے افغانستان کو بہت سیدھا سادہ پیغام دیا تھا کہ جو پاکستان کا دشمن ہے وہ افغانستان کا بھی دشمن ہے۔ اگر کوئی افغانستان کا دشمن ہے تو وہ پاکستان کا بھی دشمن ہے۔

حکمت خلیل کرزئی کا کہنا تھا کہ اب ایسے حالات آگئے ہیں کہ افغانستان نے ثابت کرنا ہے کہ پاکستان نے اس بیان کو ثابت کرنے کے لیے کون سے اقدامات کیے ہیں۔

’اگر پاکستان یہ قدم اٹھائے کہ طالبان کی پناہ گاہیں ختم کر دے اور جو مالی امکانات ہیں انھیں ختم کر دے تو ہمارا اعتماد اور بھی بڑھ جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان کے لوگوں نے بہت قربانیاں دی ہیں اور انھیں بھی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اس حالت تک پہنچ گیا ہے کہ ان کو یقین ہوگیا ہے کہ دونوں ممالک نے جو قربانیاں دی ہیں وہ ضائع نہیں ہونی چاہییں۔‘

حکمت خلیل کرزئی کا کہنا تھا: ’دونوں ملکوں کے درمیان آہستہ آہستہ اعتماد بڑھ رہا ہے۔ یہ اس لیے بڑھ رہا ہے کہ افغانستان نے ایک کھڑکی یا دروازہ کھولا ہے۔ اگر ہم نے پاکستان کی طرف سے ایسے اقدامات نہ دیکھے تو ہو سکتا ہے کہ یہ دروازہ بند ہو جائے۔‘

خطے میں چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ چین افغانستان کا دوست اور بہت اہم ہمسایہ ہے۔

’ہم چین سے سیاسی اور اقتصادی مدد چاہتے ہیں، خاص طور پر ہمیں چین سے امن قائم کرنے کی کوشش میں مدد درکار ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کی انٹیلی ایجنسیوں کی درمیان ہونے والے معاہدے سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایک نیا باب کھولا ہے اور اس میں ہم نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور قیام امن کی کوششوں اور سکیورٹی میں ہماری مدد کریں۔‘

اسی بارے میں