جہاں اہم شخصیات کا گزر نہیں، وہاں صفائی بھی نہیں

Image caption تحریک انصاف کی حکومت نے پشاور میں صفائی کی ذمہ داری گذشتہ سال ستمبر میں ایک نجی کمپنی ڈبلیو ایس ایس پی کے حوالے کی تھی

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں روزانہ کوئی ایک ہزر ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے شہر کی صفائی ایک مشکل عمل رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں شہر کے بعض علاقوں میں صفائی کرنے والا عملہ اہم شاہراہوں پر نظر آتا ہے لیکن گلی کوچے اور محلے اب بھی نظر انداز ہیں۔

نکاسی اور فراہمی آب کی نجی کمپنی اب کچرے سے توانائی پیدا کرنے کےمنصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے پشاور میں صفائی کی ذمہ داری گذشتہ سال ستمبر میں ایک نجی کمپنی ڈبلیو ایس ایس پی کے حوالے کی تھی۔ جس کے بعد شہر میں صفائی کرنے والا عملہ اور مکینکل یونٹس یا صفائی کرنے والی گاڑیاں اور مشینیں سڑکوں پر نظر آنے لگیں ہیں۔

یونیورسٹی روڈ ، جمرود روڈ، حیات آْباد اور رنگ روڈ کے کچھ حصے اور چند ایک دیگر علاقے ایسے ہیں جہاں صبح کے وقت زرد اور سبز رنگ کی وردیاں پہنے عملہ صفائی کرتا نظر آتا ہے۔

یہ وہ علاقے ہیں جہاں سے اکثر اہم شخصیات کا گزر ہوتا ہے۔ جن علاقوں سے اہم شخصیات کا گزر نہیں ہوتا وہاں صفائی بھی نہیں ہوتی۔

حیات آباد میں صبح کے وقت داخل ہوا تو یہاں کوئی 15 سے 20 صفائی کرنے والے عملے کے افراد ٹولیوں کی شکل میں صفائی کا کام کرتے دکھائی دیے۔ ان میں کچھ ایسے تھے جنھیں ایک ماہ قبل تعینات کیا گیا ہے جبکہ باقی عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں۔

Image caption پہلے صفائی کے بعد 60 فیصد کچرا اٹھایا جاتا تھا اور40 فیصد رہ جاتا تھا لیکن اب 80 فیصد تلف کر دیا جاتا ہے

اس عملے کے ایک رکن لاوی عاجز سے میں نے پوچھا کہ پہلے یہ لوگ صفائی کیوں نہیں کرتے تھے اور اب ایسا کیا ہوا ہے کہ عملے کے اتنے افراد سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا ’حکومت اچھی ہو تو کام بھی اچھا ہوتا ہے۔‘

لاوی عاجز نے بتایا کہ پہلے کوئی کرپشن کرتا تھا مگر اب عمران خان کی حکومت میں یہ برداشت نہیں کیا جاتا، وہ ہر اس افسر یا ملازم کو نکال دیتے ہیں جو کام نہیں کرتا۔

فیز تھری چوک پر صفائی کرنے میں مصروف شہزاد نے بتایا کہ وہ ایک ماہ پہلے تعینات ہوا ہے اور اس عرصے میں انھوں نے رنگ روڈ کی صفائی کی جہاں 15 سال سے صفائی نہیں کی گئی تھی۔

اس عملے کی نگرانی کے لیے نجی کمپنی کے ایک انسپکٹر محمد جمشید معمور تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر علاقے اور روڈ کی صفائی کے دن مقرر کیے گئے ہیں۔

ان سے جب پوچھا کہ جہاں اہم شخصیات کا گزر ہوتا ہے وہاں صفائی ہو ہی ہے تو انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے ہر علاقے میں عملہ تعینات ہے اور وہ کام کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جیسے افسر کہتے ہیں وہ ویسے ہی کام کرتے ہیں۔ پہلے شاید وسائل کی کمی ہوگی لیکن ہم تو پہلے بھی کام کرتے تھے۔

پشاور میں صدر کے علاقے اور اندرون شہر میں اب بھی اکثر مقامات پر گندگی پڑی ہوتی ہے اور انھیں تلف کرنے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں ہے۔

دور نہ جائیں پشاور میں جمرود روڈ پر بورڈ بازار کے قریب بھی گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں جبکہ کارخانوں مارکیٹ میں تجاوزات ختم کرنے کے بعد کچرا نہیں اٹھایاگیا۔

Image caption جن علاقوں سے اہم شخصیات کا گزر نہیں ہوتا وہاں صفائی بھی نہیں ہوتی

پشاور کے زون چار کے انچارج انجینیئر علی خان نے بتایا کہ یہاں آبادی کے حساب سے عملہ کم تھا اور اب کمپنی مزید 500 افراد تعینات کر رہی ہے جبکہ صفائی کی 70 مشینیں مذید لائی جا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پہلے صفائی کے بعد 60 فیصد کچرا اٹھایا جاتا تھا اور40 فیصد رہ جاتا تھا لیکن اب 80 فیصد تلف کر دیا جاتا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے مریم زئی میں زمین حاصل کی ہے جہاں کچرے کو توانائی میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔

انجینیئر علی خان نے بتایا کہ اب ان کی کمپنی میں سزا اور جزا کا نظام رائج ہے۔ کچھ روز پہلے کام نہ کرنے والے پانچ افراد کو باقاعدہ طریقۂ کار کے تحت نوکریوں سے نکالا گیا ہے۔

پشاور میں ایسا بھی نہیں کہ صفائی کا کام نہیں ہو رہا اور ایسا بھی نہیں ہے کہ شہر کو صاف ستھرا کر دیا گیا ہے لیکن ایک حقیقت یہ ہے کہ شہر کی صفائی کے لیے کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہے یہ کوششیں کتنا عرصہ جاری رہتی ہیں۔

اسی بارے میں