جعلی ڈگریوں کے سکینڈل نے پاکستان کو ہلا کے رکھ دیا

بول
Image caption بول کے دو ہزار سے زائد ملازمین کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے

کیا پاکستان کی انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی ایگزیکٹ وہی کچھ کر رہی ہے جس کا الزام امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں اس پر لگایا گیا ہے کہ وہ جعلی ڈگریاں آن لائن بیچ رہی ہے?

اس کا جو بھی جواب ہو، لیکن اس سے پاکستان کو اتنا بڑا دھچکہ کبھی بھی نہ لگتا اگر یہ سافٹ ویئر کمپنی پرنٹ اور میڈیا گروپ ’بول‘ شروع نہ کر رہی ہوتی۔

اب ایسا کرنا ذرا مشکل نظر آ رہا ہے۔

17 مئی کو اپنی ایک رپورٹ میں نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا کہ امریکی یونیورسٹیوں اور سکولوں کی ’ایک بہت بڑی سلطنت‘ مختلف مضامین میں آن لائن ڈگریاں بیچ رہی ہے۔

لیکن اس کے متعلق حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان ’چمکدار اور گارنٹی شدہ‘ اداروں (جن کی تعداد تقریباً 370 ہے) کی ویب سائٹیں صرف کمپیوٹر پر موجود ہیں۔

اس انٹرنیٹ ایمپائر کے متعلق جو چیز حقیقی تھی وہ ہر سال پوری دنیا سے کئی ہزار لوگوں سے کمانے والے لاکھوں ڈالر تھے، جو پاکستان کی اس خفیہ طریقے سے کام کرنے والی سافٹ ویئر کمپنی کو جاتے تھے۔

یاد رہے کہ نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک خبر میں پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ پر جعلی اسناد جاری کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کے پاکستان کے بیورو چیف ڈیکلن والش نے گذشتہ پیر کوایگزیکٹ کمپنی پر الزام لگایا تھا کہ وہ انٹرنیٹ پر امریکہ، کینیڈا، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں کرنے والی جعلی ڈگریاں فروخت کر کے لاکھوں ڈالر کما رہی ہے۔ خبر میں کمپنی کے سابق اہلکاروں اور متاثرین سے تفصیلی بات چیت کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ نیویارک ٹائمز نے ایگزیکٹ کی ان مبینہ آن لائن یونیورسٹیوں اور کالجوں کی فہرست شائع کرتے ہوئے ان کا تکنیکی تجزیہ بھی پیش کر کے ان کا ایگزیکٹ سے مبینہ تعلق ثابت کرنے کی کوشش کیا تھا۔

اس خبر پر ایگزیکٹ نے نیویارک ٹائمز اور ڈیکلن والش کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا اور اپنی ویب سائٹ پر شائع بیان میں ان الزامات کو بے بنیاد، ہتک آمیز اور غیر معیاری قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایگزیکٹ کے سی ای او شعیب شیخ کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے بدھ کو گرفتار کیا تھا

کمپنی کے سی ای او شعیب شیخ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’یہ ایک سازش ہے تاکہ ہمارا عزم توڑا جا سکے، بول کو پٹری سے اتارا جائے اور ایگزیکٹ کو بند کیا جائے۔‘

منگل کو پوسٹ کیے جانے والے پیغام کی سرخی تھی: ’شعیب شیخ کا گرفتاری سے پہلے آخری پیغام۔‘

شعیب شیخ نے کہا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ ہم جعلی ڈگریاں اور ڈپلومے بیچتے ہیں، لیکن ہم صرف تعلیمی پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں جو ہمارے پارٹنرز کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اگر ان پارٹنرز کی یونیورسٹیاں جائز ہیں اور ان کے اختیارات میں ہیں تو یہ ہمارے لیے بالکل جائز ہے کہ ان کی کال سینٹر سروسز، چیٹ سروسز اور ان کی دستاویز کا انتظام رکھنے والی سروسز کو چلاتے رہیں۔‘

لیکن تردید کے باجود بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایگزیکٹ کی کئی منزلہ عمارت کے نیچے سے زمین نکل رہی ہے۔

جیسے ہی 17 مئی کو نیویارک ٹائمز کی رپورٹ آئی پاکستان کے ٹی وی چینلوں کو تو جیسے کچھ ہو گیا۔ انھوں نے بول کو نیچا دکھانے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

یہ گذشتہ برس ہونے والی اسی طرح کی میڈیا کی جنگ تھی جس میں اکثر ٹی وی چینلوں نے جیو کو نیچا دکھانے کی کوشش کی تھی۔

یہ 2007 کی وکلا کی تحریک کی طرح ہی تھا جس میں میڈیا اور مظاہرین نے مل کر جنرل مشرف کی حکومت کو پہلے کمزور کیا اور پھر ختم کیا تھا۔

اس طاقت کے جوش میں الیکٹرانک میڈیا نے بڑے بڑے ٹاک شو منعقد کیے، جن میں اکثر وہ پاور بروکر یا جھگڑوں میں ثالثی کا کردار ادا کرتا۔

دو سال سے زیادہ عرصے قبل ان میں سے کچھ سٹار صحافیوں نے اپنے اپنے چینل چھوڑے اور کہیں غائب ہو گئے۔

لیکن حقیقت میں وہ بول میں شمولیت اختیار کر رہے تھے، جو کہ ایگزیکٹ کے ہائی پروفائل پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا ہی حصہ تھا جس کی نشرتات ابھی شروع نہیں ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایگزیکٹ دیکھتے دیکھتے ایک بہت طاقتور سافٹ ویئر گروہ بن گیا تھا

لیکن اس کے باوجود ان صحافیوں کی اچھی طرح ’دیکھ بھال‘ کی جا رہی تھی۔

اہم عہدوں پر فائز لوگوں کو بڑی بڑی تنخواہیں، گھر، کاریں اور دیگر سہولیات دی جا رہی تھیں جن میں جم، سوئمنگ کلب، طبی کور اور ریٹائرمنٹ سپورٹ شامل تھی۔

بول کے تقریباً سبھی ملازمین کو گذشتہ ہفتے تک تنخواہیں مل رہی تھیں جو انہی عہدوں پر فائز دوسرے اداروں کی نسبت تین تین چار چار گنا زیادہ تھیں۔

یہ عملہ بول کے مختلف ٹی وی چینل (نیوز، ڈاکیومنٹریز، انٹرٹینمنٹ)، اردو اور انگریزی کے اخبار اور اردو اور انگریزی زبان کی ویب سائٹ چلاتا تھا۔

ایگزیکٹ کی جعلی ڈگری سکینڈل کی تحقیقات میں تیزی سنیچر کو اس وقت آئی جب ایگزیکٹ کے صدر اور ایڈیٹر ان چیف کامران خان نے ٹویٹ کیا کہ وہ یہ میڈیا گروپ چھوڑ رہے ہیں۔

اس کے بعد ایک ہلچل مچ گئی اور بہت سے لوگوں نے کہا کہ وہ اس ادارے سے جا رہے ہیں۔

کچھ نے کہا کہ وہ یہ اصولوں کی بنیاد پر کر رہے ہیں، کچھ نے کہا کہ وہ چمک دمک سے اندھے ہو گئے تھے لیکن اب انھیں اس کے سیاہ رخ کا اندازہ ہوا ہے۔ لیکن کچھ نے کہا کہ وہ اس لیے بھی اسے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ان کو نظر آ رہے ہیں کہ یہاں اب پیسے نہیں ملیں گے۔

لیکن اس لیے ہی ان پر سوشل میڈیا پر بہت تنقید ہو رہی ہے۔

جن لوگوں نے اب تک اسے چھوڑا ہے وہ سب سٹار صحافی ہیں، جنھیں قیادت کے فرائض سونپے گئے تھے۔ ان میں سے اکثر کی وجہ سے تقریباً دو ہزار لوگوں کا عملہ دوسرے ادارے سے یہاں آیا تھا۔

اگرچہ انھوں نے ’ڈوبتے‘ جہاز سے چھلانگ لگا دی ہے لیکن بہت سے یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے عملے کو ایک غیر یقینی مستقبل کے حوالے کر دیا ہے۔

اسی بارے میں