تین بلوچ ہائی جیکروں کو 17 برس بعد پھانسی دے دی گئی

Image caption پاکستانی فوج کے کمانڈوز نے رات کے اندھیرے میں آپریشن کر کے تینوں ہائی جیکروں کو گرفتار کر لیا تھا

پاکستان کی فضائی کمپنی پی آئی اے کا طیارہ ہائی جیک کرنے والے تین بلوچ ہائی جیکروں کو جمعرات کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

شہسوار، صابر اور شبیر نامی مجرموں نے 24 مئی 1998 کو تربت سے کراچی جانے والے طیارہ ہائی جیک کیا تھا۔

صدرِ پاکستان کی جانب سے رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد حیدر آباد میں انسداد دہشت گردی کے جج عبدالغفور میمن کی عدالت نے گذشتہ جمعرات کو ان کے بلیک وارنٹ جاری کیے تھے۔

ان ڈیتھ وارنٹس پر عمل درآمد 28 مئی کو حیدرآباد اور کراچی کی جیلوں میں کیا گیا۔

پی ٹی وی کے مطابق شہسوار اور صابر رند کو حیدرآباد جبکہ شبیر رند کو کراچی کی جیل میں تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ہائی جیکنگ کا یہ واقعہ 17 برس قبل اس وقت پیش آیا تھا جب 35 سے زائد مسافروں اور عملے کو لے کر گوادر کے راستے تربت سے کراچی جانے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے فوکر طیارے کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

اس طیارے پر 35 مسافر سوار تھے جب تینوں ہائی جیکر اس پر گوادر سے سوار ہوئے اور کپتان کو جہاز کا رخ بھارت کی طرف موڑنے کا حکم دیا۔

کپتان نے ایندھن ختم ہونے کا کہہ کر جہاز حیدرآباد ایئرپورٹ پر اتار دیا تھا اور ہائی جیکروں کو بتایا کہ وہ بھارتی ریاست گجرات میں اترے ہیں۔

اس واقعے کی رات حیدر آباد ایئرپورٹ کے آس پاس مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور ایک منصوبے کے تحت ایس ایس پی حیدر آباد اختر حسین گورچانی اور ڈپٹی کمشنر سہیل شاہ نے ہائی جیکروں کے ساتھ ہندی میں بات چیت کی اور انھیں یقین دہانی کرائی کہ وہ بھارت میں ہی ہیں۔

اس کے بعد پاکستانی فوج کے کمانڈوز نے رات کے اندھیرے میں آپریشن کر کے تینوں ہائی جیکروں کو گرفتار کر لیا تھا۔

حکام نے ان کا تعلق بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے ظاہر کیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ تینوں بھارتی ایجنٹ ہیں۔

صوبہ سندھ میں بلوچ مزاحمت کاروں کو پھانسی دینے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے پہلے 1960 میں ریاست کے خلاف بغاوت کے پاداش میں حیدر آباد سینٹرل جیل میں چار اور سکھر جیل میں تین ’باغیوں‘ کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا تھا۔

اسی بارے میں