حفاظتی چوکی پر حملہ، ’دو اہلکاروں سمیت سات ہلاک‘

Image caption شمالی وزیرستان میں گزشتہ چند دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز پر ہونے والے ایک حملے میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسند بھی مارے گئے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق یہ حملہ جمعے کی صبح پاکستان اور افغانستان کے دور افتادہ سرحدی علاقے غلام خان میں ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس سے وہاں تعینات دو اہلکار ہلاک ہوگئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھی جوابی کاروائی کی گئی جس میں پانچ شدت پسندوں کی مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ اور اردگرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔

تاہم ابھی تک فوج کی طرف سے اس حملے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ سال جون میں فوج نے شمالی وزیرستان میں سرگرم عسکری تنظیموں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تھا

اس سلسلے میں فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔

شمالی وزیرستان میں گزشتہ چند دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس سے پہلے دتہ خیل کے علاقے میں بھی سکیورٹی فورسز پر دو دنوں کے دوران دو حملے کیے گئے تھے جس میں تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں فوج نے شمالی وزیرستان میں سرگرم عسکری تنظیموں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تھا۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں شمالی وزیرستان کا 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کردیا گیا ہے تاہم ایجنسی کے دور افتادہ پاک افغان سرحدی علاقوں دتہ خیل اور شوال میں بدستور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سرحدی مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کےلیے حالیہ دنوں میں حتمی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان سے لاکھوں مقامی افراد بےگھر بھی ہوئے جو بنوں اور دیگر علاقوں میں پناہ گزین ہیں۔

حکومت نے چند ماہ پہلے متاثرین وزیرستان کی واپسی کا عمل شروع کیا اور ابھی تک صرف سپین وام اور میر علی کے علاقوں کے تقریباً 1300 خاندان اپنے اپنے علاقوں کو واپس جاچکے ہیں۔

اسی بارے میں