بلدیاتی انتخابات میں تشدد، کم از کم سات ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے دوران مختلف اضلاع میں بدنظمی اور فائرنگ کے واقعات میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سمیت کم سے کم سات افراد ہلاک اور 80 کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق تشدد کے سب سے زیادہ ٰواقعات پشاور سے متصل ضلع چارسدہ میں پیش آئے جہاں فائرنگ کے مختلف واقعات میں کم سے کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق قومی وطن پارٹی اور عوامی نشینل پارٹی کے کارکنوں کے درمیان پولنگ کے دوران تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی جس کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ ہوئی جس میں دو افراد ہلاک اور کئی افراد زخمی ہوئے۔

مرنے والے جمہوری وطن پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن بتائے جاتے ہیں۔

چارسدہ کے ایک اور علاقے عمر زئی میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ۔ مرنے والوں میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکن اور ایک راہ گیر بتایا جاتا ہے۔ پولیس نے جے یو آئی (ف) کے ضلعی جنرل سیکرٹری مفتی گوہر کو بھی اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا ہے۔

چارسدہ کے ضلعی پولیس سربراہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جمیت علماء اسلام (ف) کے ضلعی رہنما مفتی گوہر کو اپنے مسلح محافظوں کے ہمراہ پولنگ سٹشین میں داخل ہونے سے روکا اور ان سے اسلحہ لینا چاہا لیکن انہوں نے انکار کیا جس پر اس دوران تلخ کلامی اور فائرنگ ہوئی جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ پہلے فائرنگ مفتی گوہر کے محافظوں نے کی یا سکیورٹی اہلکاروں نے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ چارسدہ میں کل چھ افراد ہلاک ہوئے لیکن پولیس ذرائع نے چار ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

ادھر صوبے کے جنوبی اضلاع ڈیرہ اسمعیل خان اور کوہاٹ میں بھی فریقین کے درمیان فائرنگ کے دو واقعات میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں ایک امیدوار کے بھائی بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صوبے کے بیشتر اضلاع میں امیدوار اور ان کے حامیوں کی جانب سے کھلے عام اسلحہ کی نمائش کی گئی جس سے بشیتر علاقوں میں کشیدگی کا ماحول رہا۔

دریں اثناء خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی نے صوبے کے مختلف مقامات پر فائرنگ کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری کاروائی کا حکم دیا ہے۔

آئی جی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ جہاں جہاں فائرنگ اور اسلحے کی نمائش کی گئی ہے ان افراد کے خلاف فوری طورپر مقدمات درج کیے جائیں۔

اسی بارے میں