آم کے درخت پر دستی بم کیسے؟

تو جناب یہ یونیورسٹیوں اور پروفیشنل اداروں کے انگلش میڈیم نوجوان آخر کیسے دہشت گردی کی جانب مائل ہوگئے؟

پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ چند واقعات کو لے کے اس بجھارت کا جواب یوں تلاش کیا جارہا ہے گویا راکٹ سائنس کا پیچیدہ عقدہ ہو جس کی گتھی سلجھانے کے لیے کسی آئن سٹائن کی ضرورت ہو۔

اے میرے بھولے میڈیائی اداکارو تم میں سے کون کون ایسا ہے جو محض ان پڑھ انگوٹھا چھاپ ہونے کی مجبوری میں ایجنڈائی سوالوں کا پٹرول بھر کے منہ سے آگ نکالنے کا کرتب دکھانے پر مجبور ہے؟

تو کیا جناح صاحب کی آنکھیں بند ہوتے ہی قراردادِ مقاصد کسی ان پڑھ شوری نے منظور کی تھی یا اپنے زمانے کے جیّد پارلیمانی دماغوں کا کام تھی؟

کیا ذوالفقار علی بھٹو اس لیے لاعلم معصوم تھے کہ نو ڈیرو میں بھٹہ مزدوری کرتے تھے یا برکلے اور آکسفورڈ یاترا کے دوران عالمی تاریخ حفظ کرنے کے باوجود بھی انہیں پتہ نہ چلا کہ کبھی کبھی موقع پرستی صرف فرد ہی کو نہیں قوم کو بھی خون کے آنسو رلا دیتی ہے۔

اور یہ جنرل ضیا الحق سینٹ سٹیفن کالج دہلی کے گریجویٹ تھے یا کسی تھڑا سکول کے فارغ التحصیل کہ جنھیں بالکل اندازہ نہ ہو پایا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کیوں ؟

اور یہ فرمائیے کہ ادنیٰ تا اعلیٰ نصابی کتابوں میں نفرتی تقسیم در تقسیم کا تیزاب ترنڈہ محمد پناہ کے کند ذہن کسی رکشہ ڈرائیور نے بھرا کہ عزت مآب گولڈ میڈلسٹ ماہرینِ تعلیم نے نظریاتی دستانے پہن کے کچے دماغوں پے چھڑکا ؟

اور شدت پسند نسلی، مذہبی اور علاقائی تنظیموں کے ببول کی شجرکاری کا آئیڈیا اوکاڑہ کے بے زمین ہاریوں کی ایسوسی ایشن کا برین چائلڈ تھا کہ یہ فلم پاکستان کے گلے میں اعلیٰ ترین عسکری و غیر عسکری پروفیشنل دماغوں کی دن رات محنت کا ثمر ہے۔

اس ملک سے طلبا یونینوں اور مزدور انجمنوں کو جڑ سے اکھاڑنے اور دماغوں میں سیلف سنسر شپ کی مشینیں فٹ کرکے صحت مند مکالمے کی روائیت کا گلا گھونٹنے کا آئیڈیا چوتھی جماعت فیل بوٹا پھل فروش کا ہے یا ہارورڈین، آکسفورڈین ، ایچی سونین، والٹینین تجربے سے لیس اشرافیہ کی ایجاد ؟

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

اور یہ فرقہ پرستی کی آگ کس نے لگائی؟ پیٹ بھرے دنیا پرست فائیو اسٹار کلاہ بازوں نے یا میرے محلے کی مسجد کے منشی فاضل پنج وقتہ ساتوں دن کے پیش امام حافظ دین محمد نے کہ جس کے پاس اتنی پونجی بھی نہیں کہ حج پر جاسکے۔

اور پاکستان کی مردم خیز زمین میں وحشتی بیج بونے اور انہیں خام ذہنوں کے خون سے سینچنے کے نتیجے جب مڈل کلاس اور ایلیٹ طبقے کے نوجوان ڈاکٹر شدت سپند، بی ای مکینکیل انجینیرز بم ساز ، ایم بی اے ٹارگٹ کلرز اور ایم اے پاس برین واشنگ کے ماہرینِ قتل و غارت کی فصل بن کے لہلہا رہے ہیں تو کاشتکاروں سمیت سب خوش ہونے کے بجائے حیران ہیں کہ ہائیں۔۔۔ یہ کیا ہوا ؟ نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔

تو کیا اس لیے پریشان ہو کہ لگایا تو تم نے آم کا باغ تھا مگر پیڑ پر دستی بم کیسے اُگ آئے؟

تو کیا تمہارے والدین نے بچپن سے ہی تمہیں بتانا شروع نہیں کردیا تھا کہ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، برائی اور اچھائی ہمیشہ واپس آتی ہیں۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، دوسرے کے لیےگڑھا کھودو گے تو خود بھی گرو گے، کر بھلا ہو بھلا انت بھلے کا بھلا۔۔۔

کیا واقعی تم حیرت زدوں میں سے کسی نے بھی ان نصائح میں سے کسی ایک پر ذرا بھی دھیان نہیں دیا؟

تو پھر تو جو کچھ ہو رہا ہے اس پر تمہاری حیرت برحق ہے۔ پھر تو اپنے ہی سر پر پتھر مار کے قصور وار کو تلاش کرنے کی عادت بھی بجا ہے۔

خوشحال سیکولر تعلیم یافتہ خاندانوں میں پیدا ہونے والے دہشت گردوں پر میں بھی تمہاری حیرانی پر تم جتنا ہی حیران ہوں۔

اسی بارے میں