بلدیاتی انتخابات:’تحریکِ انصاف آگے‘، میاں افتخار پر قتل کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنیچر کو صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں سنیچر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق صوبے میں مجموعی طور پر تحریک انصاف کو سبقت حاصل ہے جبکہ آزاد امیدوار بھی بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ان انتخابات کے دوران صوبے بھر میں پرتشدد واقعات میں سیاسی کارکنوں سمیت نو افراد ہلاک اور 100 کے قریب زخمی ہوئے تھے اور ضلع نوشہرہ میں پولیس نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر میاں افتخار کو پی ٹی آئی کے ایک کارکن کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

صوبے کے مختلف اضلاع سے ملنے والے ابتدائی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پشاور، مردان اور نوشہرہ میں تحریک انصاف کی پوزیشن بہتر جا رہی ہے۔

اس کے برعکس چارسدہ، صوابی اور تور غر میں عوامی نیشنل پارٹی، ملاکنڈ ڈویژن میں جماعت اسلامی اور جنوبی اضلاع میں جمعیت علماء اسلام (ف) کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔

تاہم پورے صوبے میں پارٹی پوزیشن واضح ہونے میں ابھی مزید وقت لگے گا۔

ملک میں ہونے والے گذشتہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ہاتھوں بدترین شکست سے دوچار ہونے والی عوامی نیشنل پارٹی نے حالیہ بلدیاتی انتخاب میں کسی حد تک بہتر کارکردگی دکھائی ہے تاہم پیپلز پارٹی بظاہر ایک مرتبہ پھر ناکام رہی ہے۔

صوبے میں مجموعی طورپر 41 ہزار 762 نشستوں کے لیے 84 ہزار 420 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے اب تک آنے والے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق صوبے میں حکمراں سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف 180 نشستوں کے ساتھ سرِ فہرست ہے جبکہ آزاد امیداروں نے 108 سیٹیں جیتی ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے ان انتخابات میں اب تک 74 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ اے این پی کے 74، جماعتِ اسلامی کے 49 ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے57، پاکستان پیپلز پارٹی کے 24 اور قومی وطن پارٹی کے 12 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق تشدد کے سب سے زیادہ واقعات پشاور سے متصل ضلع چارسدہ میں پیش آئے

میاں افتخار حسین کی گرفتاری

ادھر ضلع نوشہرہ میں تحریک انصاف کے ایک کارکن کی ہلاکت کے الزام میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

نوشہرہ کے پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سنیچر کی رات پبی کے علاقے میں پی ٹی آئی کے کارکن جلوس نکاکر عوامی نشینل پارٹی کے دفتر کے سامنے گزر رہے تھے کہ اس دوران فائرنگ ہوئی جس میں تحریک انصاف کا کارکن حبیب اللہ ہلاک ہوا۔

مقامی صحافیوں کے مطابق اس واقعے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکن مشتعل ہوگئے اور انھوں نے اے این پی کے دفتر کا گھیراؤ کیا جہاں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین بھی موجود تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ شب 12 بجے پیش آنے والے اس واقعے کے بعد میاں افتخار حسین کو گرفتار کیا گیا اور اب ان کے خلاف دفعہ 302، 324 اور 109 کے تحت ایف آئی آر کاٹ لی گئی ہے۔

عدالت نے میاں افتخار حسین کو ایک روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں میاں افتخار حسین نے قتل کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ تحریک ِ انصاف کا رویہ نامناسب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے بلدیاتی انتخابات میں پولنگ کے دوران ہلاکتوں، بدنظمی اور اسلحہ کے کھلے عام نمائش جیسے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اور سیاسی رہنماؤں نے پولیس کو بھی امن و امان برقرار رکھنے میں تاخیر سے کام لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی نے صوبے کے مختلف مقامات پر فائرنگ کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔

آئی جی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ جہاں جہاں فائرنگ اور اسلحے کی نمائش کی گئی ہے ان افراد کے خلاف فوری طورپر مقدمات درج کیے جائے۔

اسی بارے میں